Daily Mumtaz:
2026-06-02@21:48:58 GMT

بھارت: کباڑ فروش نے سونا مالک کو چار ماہ بعد واپس لوٹا دیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

بھارت: کباڑ فروش نے سونا مالک کو چار ماہ بعد واپس لوٹا دیا

فرید آباد (ویب ڈیسک) جہاں ایک پرانا سامان خریدنے والے کو سامان کے ڈھیر میں چھپے لاکھوں روپے مالیت کے سونے کے زیورات ملے، لیکن اس نے اپنی قسمت سمجھنے کی بجائے اصل مالک کو واپس کر دیے۔
آج کے دور میں جب سونے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، مفت میں سونا ہاتھ لگنا یقینی طور پر خوشی سے دل کو جھومنے والا لمحہ ہوگا۔ ایسا ہی واقعہ بھارت کے شہر فریدآباد میں پیش آیا

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اشوک شرما نامی شخص کے خاندان نے اپنے سونے کے زیورات ایک ڈبے میں رکھ کر اسے ایک بوری میں محفوظ کیا تھا۔ خاندان جنوری میں کمبھ میلہ جانے سے پہلے زیورات کو محفوظ جگہ پر رکھنا چاہتا تھا تاکہ چوری کا خطرہ نہ رہے۔ تاہم بعد میں دیوالی کی صفائی کے دوران وہی بوری غلطی سے غیر ضروری سامان سمجھ کر کباڑیے کو فروخت کر دی گئی۔

شرما نے بتایا کہ کچھ وقت بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا جس پر وہ اور ان کا خاندان پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کباڑیے سے رابطہ کیا اور زیورات کے بارے میں پوچھا، لیکن اس وقت تک زیورات نہیں مل سکے اور وہ مایوس ہو کر واپس آ گئے۔

تقریباً چار ماہ بعد کباڑیے، جس کی شناخت حاجی اختر خان کے نام سے ہوئی، جب خریدے گئے سامان کو الگ الگ کر رہا تھا تو اسے کاغذ اور پلاسٹک کی تھیلی میں لپٹا ہوا ایک پیکٹ ملا۔ جب اس نے اسے کھولا تو اس میں تقریباً 100 گرام سونے کے زیورات موجود تھے۔ یہ لمحہ ان کے لیے آزمائش بھی تھا اور انتخاب بھی۔ انہوں نے لالچ کو خود پر غالب نہیں آنے دیا اور فوراً پولیس سے رابطہ کیا تاکہ زیورات صحیح ہاتھوں تک پہنچ سکیں۔

پولیس کی موجودگی میں زیورات باقاعدہ طور پر اشوک شرما کے حوالے کر دیے گئے۔ حاجی اختر خان نے کہا کہ زیورات ملنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں اصل مالک کو واپس کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور اس فیصلے میں ان کے خاندان نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا