نیشنل جوڈیشل ایجوکیشن کمیٹی اجلاس میں گلگت بلتستان میں عدالتی اصلاحات کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
چیئرمین نیشنل جوڈیشل ایجوکیشن کمیٹی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ گلگت بلتستان کی طرز پر عدالتی تربیت کے جدید نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ گلگت بلتستان جوڈیشل اکیڈمی طرز پر ہنگامی بنیادوں پر جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نیشنل جوڈیشل ایجوکیشن کمیٹی پاکستان جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے جوڈیشل ٹریننگ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرلز اور جوڈیشل اکیڈمی گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر جنرل غلام عباس چوپا بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں جوڈیشل اکیڈمی کے قیام اور وہاں عدالتی اصلاحات کے اقدامات کو سراہا گیا۔ چیئرمین نیشنل جوڈیشل ایجوکیشن کمیٹی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ گلگت بلتستان کی طرز پر عدالتی تربیت کے جدید نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ گلگت بلتستان جوڈیشل اکیڈمی طرز پر ہنگامی بنیادوں پر جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ججز اور عدالتی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جوڈیشل اکیڈمیز کا بنیادی مقصد ججز، مجسٹریٹس اور عدالتی عملے کو جدید قانونی تقاضوں، آئینی اصولوں، اور عدالتی نظم و نسق کے نئے طریقہ کار سے روشناس کرانا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف صوبوں کی جوڈیشل اکیڈمیز کے نمائندگان نے گلگت بلتستان جوڈیشل اکیڈمی کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے شرکاء نے بین الصوبائی سطح پر جوڈیشل اکیڈمک اشتراک کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس کے تحت مشترکہ ورکشاپس، تربیتی پروگرامز اور تحقیقی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے اشتراک سے نہ صرف عدالتی نظام کی کارکردگی بہتر ہو گی بلکہ ملک بھر میں انصاف کی فراہمی کے معیار کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اجلاس کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ جدید تربیت، تحقیق اور بین الادارہ جاتی تعاون کے ذریعے عدلیہ کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوڈیشل اکیڈمی کے کہ گلگت بلتستان
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔