جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کرنے سے پہلے دو تاریخوں پر عمران خان کا زخمی ہونا تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ؟ ہم مقدمہ میں دوسرے فریق کو نوٹس کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو ہرجانہ کیس میں کارروائی سے روک دیا اور وزیر اعظم شہباز شریف سے جواب طلب کر لیا۔ شہباز شریف کے عمران خان کے خلاف ہرجانہ کیس پر سپریم کورٹ میں بانی کی درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ دوسری طرف سے آج کوئی نہیں آیا، اس مقدمہ میں میرا اختلافی نوٹ ہے، دو جج صاحبان نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کی ٹانگ میں گولی لگی تھی، بانی پی ٹی آئی زخمی ہونے کے باعث کیس میں پیش نہ ہو سکے۔

ٹرائل کورٹ نے عمران خان کی عدم پیروی پر حق دفاع ختم کر دیا تھا، اب مقدمہ میں گواہان کا بیان ریکارڈ ہو رہا ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کتنے ارب ہرجانے کا دعوی ہے؟ علی ظفر نے بتایا کہ دس ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کرنے سے پہلے دو تاریخوں پر عمران خان کا زخمی ہونا تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ؟ ہم مقدمہ میں دوسرے فریق کو نوٹس کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف دس ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہوا ہے جس میں ٹرائل کورٹ نے عمران خان کا عدم پیروی پر دفاع کا حق ختم کر دیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جسٹس عائشہ ملک نے زخمی ہونا تسلیم حق دفاع ختم کر ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ شہباز شریف نے کہا کہ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ