عمران خان کیخلاف شہباز شریف کے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دائر 10 ارب روپے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران وزیراعظم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آج دوسری جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ان کا اختلافی نوٹ موجود ہے، جبکہ 2 معزز جج صاحبان نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی ٹانگ میں گولی لگی تھی اور زخمی ہونے کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کردیا تھا، حالانکہ اس سے قبل 2 سماعتوں پر عدالت زخمی ہونے کا عذر تسلیم کرچکی تھی۔
مزید پڑھیں:
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ جب عدالت زخمی ہونے کا عذر تسلیم کرچکی تھی تو پھر حقِ دفاع کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدالت دوسرے فریق کو نوٹس جاری کررہی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ہرجانے کا دعویٰ کتنی رقم کا ہے، جس پر وکیل علی ظفر نے بتایا کہ 10 ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:
وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ میں اس وقت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے تھے، تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کارروائی مؤخر ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
جبکہ ٹرائل کورٹ نے عدم پیشی پر ان کا حقِ دفاع ختم کردیا تھا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانی پی ٹی آئی ٹرائل کورٹ جسٹس عائشہ ملک جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ عمران خان ہرجانہ کیس وزیراعظم شہباز شریف وکیل علی ظفر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی ٹرائل کورٹ جسٹس عائشہ ملک جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ ہرجانہ کیس وزیراعظم شہباز شریف وکیل علی ظفر بانی پی ٹی آئی شہباز شریف ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کیا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔