سپریم کورٹ نے سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل زائد المیعاد قرار دیتے ہوئے خارج کردی اور تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کو بھی وہی پروٹوکول ملے گا جو ایک عام شہری کو ملتا ہے اور ریاست کوئی انوکھا سائل نہیں جسے خصوصی رعایت دی جائے۔

مزید پڑھیں:ایف آئی آر میں ’نو مسلم شیخ‘ لکھنے پر سپریم کورٹ کا سخت اظہارِ برہمی

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریاست شہریوں سے تو قانون پر سختی سے عملدرآمد کرواتی ہے لیکن خود بہانے بناتی ہے۔ دفتری قواعد یا انتظامی مشکلات وقت کی پابندی سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔

عدالت کے مطابق افسران کے تبادلوں، کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونے یا بیوروکریسی کی سستی کو تاخیر کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، اور اس کا بوجھ دوسرے فریق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: رمضان المبارک میں سپریم کورٹ کے اوقات کار کیا ہوں گے؟ نوٹیفکیشن جاری

جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی۔ عدالت نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط اور مقررہ مدت کی پابندی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے ریاست اپنی نااہلی کا ملبہ عدالت پر نہیں ڈال سکتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپیل خارج، تاخیر معاف جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ وفاقی حکومت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپیل خارج تاخیر معاف جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ وفاقی حکومت وفاقی حکومت سپریم کورٹ

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع