Jasarat News:
2026-07-24@01:05:48 GMT

عمران خان رہائی فورس؟؟؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

عمران خان رہائی فورس؟؟؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260220-03-2
صوبہ خیبر کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ عوامی تحریک کی تیاری کے لیے ’’عمران خاں رہائی فورس‘‘ قائم کی جا رہی ہے جس کے لیے ملک بھر میں نوجوانوں کی رکنیت سازی کی جائے گی اور عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے باضابطہ حلف لیا جائے گا۔ اس تحریک کے لیے ایک مضبوط چین آف کمانڈ تشکیل دی جائے گی، عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب ایک منظم اور پر امن عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، پہلے تیاری کریں گے پھر لڑائی کریں گے، ان شاء اللہ اس میں جیت حق اور سچ کی ہو گی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیس کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان رہائی فورس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، ویمن ونگ، اقلیتی ونگ، پروفیشنلز اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا، رہائی فورس مکمل طور پر پر امن جدوجہد کرے گی اور رہائی کے بعد اس فورس کو خود عمران خان تحلیل کریںگے۔ ممبر شپ کارڈز چار سے پانچ دن میں تیار ہو جائیں گے، ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے موصول ہو گی، احتجاج اور مذاکرات کی ذمے داری عمران خان نے علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سونپی ہے اور یہ ان کا فیصلہ تھا کہ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دیا جائے، جس پر تمام قیادت نے لبیک کہا، مجھے عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمے داری دی گئی ہے۔ پورے پاکستان میں تیاری جاری ہے اور لوگ متحرک ہو رہے ہیں۔ آئینی، قانونی اور جمہوری تمام راستے اختیار کرنے کے باوجود عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ بہترین تیاری کے بعد ہی موثر کال دی جائے گی۔ یہ لڑائی حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت اور آزاد میڈیا کی بحالی کی جدوجہد ہے، اور ان شاء اللہ اس میں جیت حق کی ہو گی۔ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات آنے پر ہم عدالتوں کے احترام میں ایک قدم پیچھے ہٹے، کیونکہ عمران خان نے ہمیں اداروں کا احترام کرنا سکھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، منصب سے نہیں۔ اگر عزت انسانوں کے ہاتھ میں ہوتی تو عمران خان قوم کے دلوں کی دھڑکن نہ ہوتے۔وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر محمد سہیل آفریدی کے اس جارحانہ اعلان کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے۔ دھمکی دی ہے کہ اگر اسٹریٹ موومنٹ جیسی باتیں کی جائیں گی تو عمران خاں سے رمضان میں ملاقاتیں بھی بند ہو جائیں گی۔ سہیل آفریدی احمقانہ بات کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کے خلاف سازش ہو رہی ہے یا یہ خود تحریک کے بانی کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ عمران خاں خود رہا نہیں ہونا چاہتے، ملاقاتوں کو سیاست، گالم گلوچ کے لیے استعمال نہ کریں تو کون روکتا ہے؟ بانی پی ٹی آئی ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہتے وہاں ان کا دل نہیں لگ رہا۔ان کی لیونگ کنڈیشن جیل میں اے ون ہے، ان کا علاج بھی بہترین ہوا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو پہیہ جام کی کال دی اس کے لیے ان کی کیا تیاری تھی؟ جس طرح کے انہوں نے دھرنے دیے اس سے بہتر تھا نہ دیتے ۔ پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ ڈی چوک کے بجائے سنگجانی چلے جائیں آپ سے بات ہو گی، یہ سنجیدہ کوشش تھی لیکن تحریک انصاف یا شاید بانی پی ٹی آئی نے انکار کیا۔ ان کو ایک طرف سے فیڈ کیا جا رہا تھا کہ بس انقلاب آنے کو تیار ہے، محسن نقوی ان کے ساتھ براہ راست گفتگو میں شامل تھے کہ ڈی چوک نہ جائیں، بانی پی ٹی آئی پہلے اس بات پر رضا مند ہوئے پھر اس بات سے پیچھے ہٹ گئے۔پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے اعلان پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’’رہائی فورس‘‘ کے ذریعے اڈیالہ جیل پر چڑھائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت کے شعبہ تعلقات عامہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے عمران خاں کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرنے والے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے استفسار کیا کہ جب سیاسی مخالفین کی بیماریوں کا تمسخر اڑایا جا رہا تھا انسانی حقوق کے چمپئن بننے والے مختلف ممالک کے کپتان کہاں تھے، مگر آج ایک آنکھ کے معاملے پر دنیا بھر میں شور مچایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی والے اب این آر او لینے کے لیے مختلف حیلے بہانے کر رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا، آج وہ خود ریلیف کے متلاشی ہیں۔ جیل سے جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ فساد، فتنہ اور ریاست سے ٹکرائو کا ہی آتا ہے۔ 73 سال کی عمر میں 6/6 اور 9/6 نظر چند لوگوں کی ہوتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، دن میں دو مرتبہ طبی معائنہ ہوتا ہے، اچھی خوراک، واک اور جم کی سہولت میسر ہے۔ ان کی صحت کے حوالے سے نہ کبھی غفلت برتی گئی اور نہ برتی جائے گی۔ حکومت اپنی ذمے داری پوری کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہ گھر پر بیٹھ کر زہر دیے جانے کی کہانیاں سناتے تھے، پھر جیل میں جان کو خطرے کا بیانیہ شروع ہو گیا۔ یہ سب محض سیاسی ڈرامے ہے۔ جھوٹا پروپیگنڈا ان کی اپنی میڈیکل رپورٹوں نے بے نقاب کر دیا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں 13 سال حکومت کرنے والوں نے سڑکیں بند کر کے صرف عوام کو اذیت دی۔ ایمبولینسوں میں لوگ تڑپتے رہے، عدالت کو مداخلت کر کے راستے کھلوانا پڑے۔ اگر واقعی کوئی قانونی راستہ بنتا ہے تو حکومت قانون کے مطابق سہولت دینے سے گریز نہیں کرے گی، لیکن انتشار، انارکی اور ریاست کے خلاف بیانیہ ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو اتنی سہولتیں ملی ہوں جتنی انہیں حاصل ہیں۔محترم سہیل آفریدی ایک صوبے کے اہم ترین منصب پر فائز ہیں ان کا ہر اقدام ذمے دارانہ ہونا چاہئے۔ جذباتیت پر مبنی باتیں اور اعلانات کسی طرح بھی ان کے منصب کے شایان شان نہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کا قانون کسی بھی قسم کی ’’سپاہ‘‘ یا ’’فورس‘‘ وغیرہ کی تشکیل کی اجازت نہیں دیتا کہ وطن عزیز پہلے ہی دہشت گردی اور تخریب کاری کی لپیٹ میں ہے اور ’’عمران خاں رہائی فورس‘‘قسم کی تنظیمیں معاشرے میں تشدد کا راستہ کھولتی اور لاقانونیت کے فروغ کا باعث بنتی ہیں اس لیے قانون میں ایسی تشدد آمیز فورس وغیرہ کو منظم کرنے پر پابندی عائد ہے اور پھر جناب سہیل آفریدی نے عید کے بعد ’’فورس‘‘ کے نوجوانوں سے پشاور میں باقاعدہ اور باضابطہ حلف لینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ہمارا وزیر اعلیٰ صاحب کو مشورہ ہو گا کہ وہ اپنی اس مجوزہ فورس کے ضمن میں مزید کسی پیش رفت سے قبل آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت ضرور کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے بہر صورت گریز کیا جائے آئین و قانون جس کی اجازت نہ دیتے ہوں اور جس کا نتیجہ ملک میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہو!!

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی رہائی فورس کرتے ہوئے وزیر اعلی جائے گی رہے ہیں جا رہا کیا جا کے لیے رہی ہے کے بعد ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف