بھارت کے ایک اسکول میں 35 بچوں کے ہاتھوں پر پُراسرار زخم
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے ایک مڈل اسکول میں پیش آنے والے پراسرار واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جہاں 35 طلبہ کے ہاتھوں پر گہرے زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نشانات کسی تیز دھار یا نوکیلی چیز سے لگائے گئے معلوم ہوتے ہیں، تاہم حیران کن طور پر طلبہ اس بارے میں واضح جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک طالب علم کے والدین نے اس کے ہاتھ پر گہرے کٹ کے نشانات دیکھے اور وجہ دریافت کی۔ بچے نے خاموشی اختیار کی تو والدین کو تشویش ہوئی اور وہ اسکول پہنچے جہاں مزید پوچھ گچھ پر انکشاف ہوا کہ دیگر کئی طلبہ کے ہاتھوں پر بھی اسی نوعیت کے زخم موجود ہیں۔
بعد ازاں جب تمام بچوں کا جائزہ لیا گیا تو مجموعی طور پر 35 طلبہ متاثر پائے گئے۔
اس انکشاف کے بعد گاؤں میں خوف اور حیرت کی کیفیت پھیل گئی جبکہ اسکول انتظامیہ نے فوری طور پر والدین کا اجلاس طلب کیا۔
محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دیں۔ ماہرین نفسیات کی ٹیم کو طلب کیا گیا تاکہ بچوں اور والدین کی کونسلنگ کی جا سکے اور اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی دباؤ، گروہی رجحان یا نفسیاتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔
حکام نے اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ طلبہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی رویے کی فوری اطلاع دیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بچوں نے اپنے ہاتھ کیوں زخمی کیے۔ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور حکام جلد حقائق سامنے لانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔