لاہور: بہن اور بہنوئی کو قتل کرنے والے مجرم کو دو بار سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لاہور:
سیشن کورٹ لاہور نے بہن اور بہنوئی کو قتل کرنے کے مقدمے میں مجرم عمران عرف بھولا کو دو بار سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج شعیب انور قریشی نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو دو مرتبہ سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا۔
پراسکیوٹر شبیر خان کے مطابق مجرم عمران عرف بھولا نے جائیداد کے تنازع پر فائرنگ کرکے اپنی بہن شگفتہ پروین اور اس کے شوہر لیاقت علی کو قتل کیا تھا، جبکہ فائرنگ کے دوران اپنی والدہ کو بھی زخمی کردیا تھا۔
پراسکیوٹر نے عدالت میں سترہ گواہوں کو پیش کیا، جن کے بیانات کی روشنی میں عدالت نے فیصلہ سنایا۔
پولیس کے مطابق 2023 میں دوہرے قتل کا مقدمہ نشتر کالونی پولیس نے درج کیا تھا، جس کے بعد مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ میں جاری تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔