بھارت کی سیاست دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ کو بھی آلودہ کرنے لگی، پاکستانی پلیئرز کو پک نہ کرنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کی سیاست نے انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ ‘دی ہنڈریڈ’ میں بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا، جہاں آئی پی ایل سے منسلک ٹیموں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ منتخب کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ‘دی ہنڈریڈ’ میں پاکستانی کھلاڑی صرف وہی ٹیمیں منتخب کر سکتی ہیں جن کے مالکانہ حقوق میں آئی پی ایل فرنچائز حصہ دار نہ ہوں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے یہ ہدایت ایک پلیئر ایجنٹ کو دی کہ آئی پی ایل ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں سے دور رہ سکتی ہیں۔
انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ ‘دی ہنڈریڈ’ کی 8 ٹیموں میں سے 4 کی 49 فیصد ملکیت آئی پی ایل ٹیموں کے پاس ہے، جن میں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سن رائزر لیڈز اور سدرن بریو شامل ہیں، جن میں بھارتی سرمایہ کاری موجود ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایک ایجنٹ نے یہ شکایت کی کہ انڈین ملکیت والی ٹیموں کا پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ لینا ایک غیر رسمی قاعدہ بن چکا ہے۔
یہ رجحان پہلے جنوبی افریقہ کی ایس اے ٹی ٹوئنٹی اور یو اے ای کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں بھی دیکھا گیا۔
اس سال ‘دی ہنڈریڈ’ کا پلیئرز آکشن 11 اور 12 مارچ کو ہوگا، جس میں پاکستان کے حارث رؤف سمیت متعدد کھلاڑی حصہ لیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی پی ایل دی ہنڈریڈ
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔