استحصال کا خاتمہ اور مساوات ریاست کی ذمے داری ہے: صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
صدرِ مملکت آصف زرداری نے کہا ہے کہ استحصال کا خاتمہ اور مساوات ریاست کی ذمے داری ہے۔
انہوں نے عالمی یومِ سماجی انصاف پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ آئینِ پاکستان سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے، کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 716 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، 1 کروڑ گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
کشمیری عوام کو اپنے ہی وطن میں بے اختیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے: آصف زرداری
انہوں نے کہا ہے کہ صحت، تعلیم اور خوراک تک رسائی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، بزرگوں، خواتین، خصوصی افراد اور نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات پر توجہ ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے فلاحی پروگرام وفاقی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں، وسائل کے مؤثر استعمال اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔
صدرِ مملکت نے مزید کہا ہے کہ سماجی انصاف پائیدار ترقی کا بنیادی ستون ہے، ہم اقوامِ متحدہ کے موضوع ’شمولیت کو بااختیار بنانا‘ کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین میں بنیادی حقوق کی پامالی پر تشویش ہے، انصاف منتخب نہیں ہو سکتا، عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہو گا کیوں کہ منصفانہ معاشرہ ہی امن اور خوش حالی کی بنیاد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا ہے کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔