پاکستان آئین میں درج انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے،صدر مملکت آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان آئین میں درج انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور ریاست کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ سماجی انصاف کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی یومِ سماجی انصاف کے موقع پر ہم آئینِ پاکستان میں درج انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں سے متعلق اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 3، 37 اور 38 ریاست کو پابند کرتے ہیں کہ استحصال کا خاتمہ کرے، برابری کو یقینی بنائے اور بالخصوص کمزور طبقات، تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دے۔انہوں کہا کہ حکومتِ پاکستان سماجی اور معاشی بہبود کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور بلا امتیاز خوراک، رہائش، لباس، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ مالیاتی دباؤ کے باوجود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ جو قیام کے وقت 34 ارب روپے تھا، بڑھ کر موجودہ مالی سال میں 716 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس سے ملک بھر میں ایک کروڑ گھرانوں کی معاونت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیت المال، پاکستان پاورٹی الیوی ایشن فنڈ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے بھی اضافی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات صحت، تعلیم، رہائش، خوراک، بلاسود قرضوں اور دیگر بنیادی خدمات تک مفت رسائی فراہم کرتے ہیں جبکہ بزرگوں، خصوصی افراد، خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی صحت، تعلیم، غذائیت، نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، بزرگوں کی فلاح، خواتین کے بااختیار بنانے اور مالی شمولیت جیسے شعبوں میں ٹارگٹڈ پروگراموں کے ذریعے وفاقی کوششوں کی تکمیل کر رہی ہیں جن میں خیبر پختونخوا میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس، پنجاب میں باہمت بزرگ پروگرام اور سندھ میں بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز سپورٹ پروگرام شامل ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جو کم آمدنی والے گھرانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹارگٹڈ اقدامات غریب ترین طبقات کو سہارا فراہم کرتے ہیں تاہم ضروریات اور وسائل کے درمیان خلا بدستور نمایاں ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مسلسل اصلاحات، عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور صوبوں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط اشتراک کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سماجی انصاف کے لیے پاکستان کا عزم اقوامِ متحدہ کے منصفانہ اور پُرامن معاشروں کے وژن سے ہم آہنگ ہے،سماجی انصاف کے لیے خلیج کو پُر کرنےکی حمایت کرتے ہیں، جو غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے جامع پالیسیوں اور سماجی تحفظ کے فروغ پر زور دیتا ہے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کوممکن بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سماجی انصاف تاحال ایک نامکمل مشن ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ اقوام جو مذہب، نسل یا قومیت کی بنیاد پر قبضے، امتیاز یا محرومی کا شکار ہیں، بدستور مشکلات جھیل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام منظم جبر اور معاشی محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح فلسطین کے عوام طویل قبضے، ناکہ بندی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں، جبری بے دخلی، شہریوں کے خلاف تشدد اور بنیادی آزادیوں سے محرومی اس امر کو واضح کرتی ہے کہ انصاف میں پسند و ناپسند کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور احتساب کو ممکن بنائے۔
انہوں نے کہا کہ ائیے ہم پاکستان کے اندر اور باہر انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں۔ ایک منصفانہ معاشرہ، جو جامع معاشی پالیسیوں اور کمزور طبقات کی نگہداشت سے تقویت پاتا ہو ،پاکستان اس مستقبل کے لیے کوشاں رہے گا جہاں سماجی انصاف محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مساوات اور انسانی وقار کے مملکت آصف علی زرداری سماجی انصاف کے کے فروغ کے لیے علی زرداری نے صدر مملکت نے کہا کہ کرتے ہیں کے لیے پ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔