اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان آئین میں درج انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور ریاست کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ سماجی انصاف کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی یومِ سماجی انصاف کے موقع پر ہم آئینِ پاکستان میں درج انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں سے متعلق اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 3، 37 اور 38 ریاست کو پابند کرتے ہیں کہ استحصال کا خاتمہ کرے، برابری کو یقینی بنائے اور بالخصوص کمزور طبقات، تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دے۔انہوں کہا کہ حکومتِ پاکستان سماجی اور معاشی بہبود کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور بلا امتیاز خوراک، رہائش، لباس، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مالیاتی دباؤ کے باوجود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ جو قیام کے وقت 34 ارب روپے تھا، بڑھ کر موجودہ مالی سال میں 716 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس سے ملک بھر میں ایک کروڑ گھرانوں کی معاونت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیت المال، پاکستان پاورٹی الیوی ایشن فنڈ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے بھی اضافی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات صحت، تعلیم، رہائش، خوراک، بلاسود قرضوں اور دیگر بنیادی خدمات تک مفت رسائی فراہم کرتے ہیں جبکہ بزرگوں، خصوصی افراد، خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی صحت، تعلیم، غذائیت، نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، بزرگوں کی فلاح، خواتین کے بااختیار بنانے اور مالی شمولیت جیسے شعبوں میں ٹارگٹڈ پروگراموں کے ذریعے وفاقی کوششوں کی تکمیل کر رہی ہیں جن میں خیبر پختونخوا میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس، پنجاب میں باہمت بزرگ پروگرام اور سندھ میں بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز سپورٹ پروگرام شامل ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جو کم آمدنی والے گھرانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹارگٹڈ اقدامات غریب ترین طبقات کو سہارا فراہم کرتے ہیں تاہم ضروریات اور وسائل کے درمیان خلا بدستور نمایاں ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مسلسل اصلاحات، عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور صوبوں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط اشتراک کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سماجی انصاف کے لیے پاکستان کا عزم اقوامِ متحدہ کے منصفانہ اور پُرامن معاشروں کے وژن سے ہم آہنگ ہے،سماجی انصاف کے لیے خلیج کو پُر کرنےکی حمایت کرتے ہیں، جو غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے جامع پالیسیوں اور سماجی تحفظ کے فروغ پر زور دیتا ہے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کوممکن بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سماجی انصاف تاحال ایک نامکمل مشن ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ اقوام جو مذہب، نسل یا قومیت کی بنیاد پر قبضے، امتیاز یا محرومی کا شکار ہیں، بدستور مشکلات جھیل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام منظم جبر اور معاشی محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح فلسطین کے عوام طویل قبضے، ناکہ بندی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں، جبری بے دخلی، شہریوں کے خلاف تشدد اور بنیادی آزادیوں سے محرومی اس امر کو واضح کرتی ہے کہ انصاف میں پسند و ناپسند کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور احتساب کو ممکن بنائے۔

انہوں نے کہا کہ ائیے ہم پاکستان کے اندر اور باہر انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں۔ ایک منصفانہ معاشرہ، جو جامع معاشی پالیسیوں اور کمزور طبقات کی نگہداشت سے تقویت پاتا ہو ،پاکستان اس مستقبل کے لیے کوشاں رہے گا جہاں سماجی انصاف محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مساوات اور انسانی وقار کے مملکت آصف علی زرداری سماجی انصاف کے کے فروغ کے لیے علی زرداری نے صدر مملکت نے کہا کہ کرتے ہیں کے لیے پ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن