علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستان کے علما نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے جاری تشدد اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
علما نے کہا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے اور عام شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیس بورڈ میں پاکستان اور اسلامی ممالک کی شمولیت فلسطین کے حق میں ہے، طاہر اشرفی
اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشتگردی، مسلح بغاوت اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی سیاسی یا نسلی دعویٰ کیوں نہ ہو۔
علما نے واضح کیا کہ اسلام کسی فرد یا گروہ کو جہاد کے اعلان یا دین کے نام پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا اور اس طرح کے اقدامات اسلامی تعلیمات کی کھلی تحریف ہیں۔
علما نے اس امر کا اعتراف کیا کہ بلوچستان کے عوام کو انصاف، ترقی اور باوقار زندگی کے حوالے سے حقیقی مسائل درپیش ہیں، تاہم اسلام ان مسائل کے حل کے لیے پرامن، قانونی اور اخلاقی راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ ایسا تشدد جو مزید تباہی اور عدم استحکام کو جنم دے۔
مشترکہ بیان میں نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور تعلیم، صبر اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں۔ ساتھ ہی ریاست سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انصاف، انسانی وقار اور بامعنی مکالمے کے ذریعے عوامی مسائل کا حل یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھیں:بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا
اعلامیے کے اختتام پر کہا گیا کہ اسلام دہشتگردی، ظلم اور ناانصافی تینوں کو مسترد کرتا ہے اور بلوچستان کا مستقبل امن، مفاہمت اور انصاف میں ہے، تشدد میں نہیں۔ علماء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان علما کرام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔