کوئٹہ، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، جعلی مشروبات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
بی ایف اے کا کہنا ہے کہ جعلی مشروبات پشاور سے بلٹی سسٹم کے ذریعے کوئٹہ منتقل کئے جا رہے تھے۔ ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کیلئے تحقیقات وسیع کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کوئٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے روح افزا اور جام شیریں کی جعلی مشروبات کو بڑی مقدار میں ضبط کر لیا ہے۔ یہ کارروائی سیٹلائٹ ٹاؤن کے بریچ مارکیٹ اور اولڈ فروٹ مارکیٹ میں خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں ایک غیر قانونی ذخیرہ اور سپلائی یونٹ بے نقاب ہوا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جعلی مشروبات پشاور سے بلٹی سسٹم کے ذریعے کوئٹہ منتقل کئے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق سپلائی چین کے مرکزی ذرائع اور ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کے لئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ ضبط کی گئی جعلی اشیاء معروف کمپنیوں کے نام استعمال کرکے کوئٹہ شہر اور دیگر علاقوں میں سپلائی کی جانی تھیں، جس سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے نے کہا کہ عوامی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور غیر معیاری و جعلی مصنوعات فروخت کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک کے پیش نظر خصوصی ٹاسک شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ملاوٹ اور جعلسازی میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔ رمضان کے دوران نگرانی مزید سخت کی جائے گی اور انسپیکشن ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں متحرک رہیں گی۔ ڈی جی بی ایف اے نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف مستند برانڈز خریدیں، خریداری کی رسید ضرور حاصل کریں اور کسی بھی مشکوک یا غیر معیاری مصنوعات کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جعلی مشروبات
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔