وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف آپریشنز
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رمضان المبارک کے دوران وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر مشترکہ کریک ڈاؤن کیا گیا، جس میں 2 ہزار سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔
حکام کے مطابق اس آپریشن کا مقصد سیکورٹی صورتحال کو مستحکم بنانا اور ریاستی رٹ کو یقینی بنانا تھا تاکہ غیر قانونی قیام یا مشکوک سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال میں پولیس، پاکستان رینجرز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور حساس اداروں نے مشترکہ طور پر سرچ اور کومبنگ آپریشنز کیے۔
رمضان المبارک کے پیش نظر مساجد اور مذہبی اجتماعات کی سیکورٹی بھی سخت رکھی گئی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا کہ جو افراد قانونی دستاویزات کے ساتھ مقیم ہیں انہیں کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
جہلم کے علاقے دینہ میں رات گئے کارروائی کے دوران 25 گھروں کی تلاشی لی گئی جبکہ 62 افراد کی چیکنگ اور 18 افراد کی مکمل پروفائلنگ کی گئی۔ اسلام آباد کے ترنول سیکٹر میں درجنوں مقامات کی چھان بین کی گئی، جبکہ اٹک میں بیک وقت 5 مختلف جگہوں پر سرچ آپریشن انجام دیا گیا۔
چکوال میں 47 گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کی تلاشی کے دوران 98 افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں لیڈی پولیس اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔
مری میں بھی سیکورٹی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ سیاحتی مقامات پر امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی مخصوص گروہ کے خلاف نہیں بلکہ قانون کے نفاذ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سیکورٹی اداروں نے عندیہ دیا ہے کہ سرچ اور کومبنگ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا اور جہاں بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ملے گی وہاں فوری کارروائی کی جائے گی۔
حکومتی حلقوں کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کو مضبوط بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز