واٹس ایپ میں صارفین کا دیرینہ مطالبہ پورا، گروپس کے لیے اہم اور کارآمد فیچر متعارف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میٹا کی زیر ملکیت دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے بالآخر صارفین کے طویل عرصے سے کیے جانے والے مطالبے کو عملی جامہ پہنا دیا ہے اور گروپ چیٹس کے لیے ایک نہایت اہم اور کارآمد فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب نئے شامل ہونے والے افراد بھی گروپ میں ہونے والی حالیہ گفتگو سے فوری طور پر باخبر ہو سکیں گے۔
واٹس ایپ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس نئے فیچر کو ’’گروپ چیٹ ہسٹری شیئرنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی گروپ میں شامل ہونے والے نئے ممبر کو ابتدائی مراحل میں پیش آنے والی الجھن اور لاعلمی سے بچایا جا سکے۔ اس سہولت کے ذریعے گروپ کے پرانے اور متحرک اراکین اب حالیہ پیغامات اور میڈیا فائلز نئے افراد کے ساتھ شیئر کر سکیں گے تاکہ وہ جاری گفتگو کا پس منظر سمجھ سکیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت میں شامل ہو جائیں۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں صارفین کے لیے مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں بتدریج تمام صارفین تک پہنچ جائے گا، اس نئی سہولت کے بعد گروپ ایڈمنز کو نئے شامل ہونے والوں کو بار بار پرانے پیغامات فارورڈ کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی کیونکہ یہ عمل اب خودکار انداز میں انجام دیا جا سکے گا۔
واٹس ایپ کے مطابق اب اگر کوئی فرد کسی گروپ کا حصہ بنتا ہے تو پرانے اراکین اس کے ساتھ گزشتہ 14 دنوں کے دوران ہونے والی گفتگو میں سے 25 سے 100 پیغامات تک شیئر کر سکیں گے۔ یہ آپشن مکمل طور پر صارفین کی صوابدید پر ہوگا، یعنی اگر گروپ کے منتظم یا ممبرز چاہیں تو ہی چیٹ ہسٹری شیئر کی جا سکے گی۔ اس طرح پرائیویسی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور صارفین کو مکمل کنٹرول فراہم کیا گیا ہے۔
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ نئے ممبرز کے ساتھ شیئر کیے جانے والے یہ پیغامات چیٹ اسکرین پر ایک مختلف رنگ میں ظاہر ہوں گے، تاکہ انہیں بآسانی پہچانا جا سکے اور یہ واضح رہے کہ یہ پیغامات پرانی گفتگو کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ جب بھی چیٹ ہسٹری شیئر کی جائے گی تو گروپ کے تمام اراکین کو نوٹیفکیشن کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا اور بتایا جائے گا کہ کس رکن نے یہ پیغامات نئے ممبر کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نیا فیچر نہ صرف بڑے گروپس کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا بلکہ تعلیمی، دفتری اور پیشہ ورانہ نوعیت کے واٹس ایپ گروپس میں بھی رابطے کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سہولت کے ذریعے نئے شامل ہونے والے افراد کو بار بار سوالات کرنے یا پس منظر جاننے کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، یوں گروپ کمیونیکیشن پہلے سے کہیں زیادہ ہموار اور منظم ہو جائے گی۔
واٹس ایپ کی جانب سے اس پیش رفت کو صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کمپنی بدلتی ہوئی ڈیجیٹل ضروریات کے مطابق اپنی سروسز میں مسلسل بہتری لا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یہ پیغامات شامل ہونے واٹس ایپ کے مطابق کے ساتھ شیئر کی کے لیے جا سکے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور