ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں کل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والا مقابلہ دونوں ہی ٹیموں کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو بہرحال یہ برتری حاصل ہے کہ کل کا میچ پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے، وہی میدان جہاں 15 فروری کو پاکستان اور بھارت کا میچ کھیلا گیا تھا۔ اچھا یہاں برتری نتیجے کے اعتبار سے نہیں کہی جارہی بلکہ وکٹ کیسی ہے یہ پاکستانی کھلاڑی زیادہ بہتر جانتے ہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی بار اس گراؤنڈ پر قدم رکھے گی۔ ایسے میں کنڈیشنز کی بہتر سمجھ پاکستان کے حق میں جاسکتی ہے، بشرطیکہ قومی ٹیم اس فائدے کو درست حکمت عملی میں ڈھال سکے۔
بات سمجھنے کی یہ ہے کہ جو ٹیم بھی اس میچ میں سرخرو ہوگی اسے ایک نفسیاتی برتری مل جائے گی اور بقیہ 2 میچوں کے لیے اس کے اعتماد میں اضافہ ہوگا لیکن شکست کی صورت میں صورتحال پیچیدہ ہوجائے گی۔ پھر باقی دونوں میچ جیتنا لازم ہوں گے اور اس کے ساتھ رن ریٹ کی جنگ بھی شروع ہوجائے گی اور بڑے ایونٹس میں رن ریٹ کا کھیل اکثر بڑی ٹیموں کو بھی باہر کردیتا ہے، اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ مرحلہ کسی حساب کتاب کے بغیر عبور کرے۔
اگر پاکستان ٹاس جیتتا ہے تو بیٹنگ کرنا ہی بہتر فیصلہ ہوگا کیونکہ ایک بار بڑا اسکور لگانے میں ہمارے بلے باز کامیاب ہوگئے تو اسپن پاور میچ کو بچا سکتی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے بات کریں تو نیوزی لینڈ کے تقریباً تمام بلے باز بڑے شاٹس کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ پاور ہٹنگ کے ذریعے میچ کا رخ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جس ٹیم کے پاس 6 اسپنرز موجود ہوں اس کے خلاف تیز اور جارحانہ بیٹنگ کرنا اتنا آسان نہیں رہتا۔
نیوزی لینڈ کے خلاف عثمان طارق ترپ کا پتہ ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن وہ اکیلے ہی نہیں بلکہ ہمارے ہر اسپنر میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ رفتار میں تبدیلی اور لائن لینتھ کے ذریعے کیوی بیٹسمینوں کو غلط شاٹس کھیلنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اگر پاکستانی بلے باز 170 سے اوپر کا مجموعہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دفاع کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ اصل چیلنج ابتدا میں مضبوط بنیاد رکھنا ہوگا تاکہ درمیانی اوورز میں دباؤ نہ بڑھے۔
ایک بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کی فائنل الیون کیا ہوگی؟ شاہین شاہ آفریدی کو تو کسی صورت واپس نہیں لانا چاہیے کیونکہ ان کا اعتماد اب تقریباً ختم ہوچکا ہے، اس لیے جو بریک انہیں دیا ہے وہ پاکستان جانے تک برقرار رکھا جائے لیکن شاہین کے برعکس نسیم شاہ کو فہیم اشرف کی جگہ ٹیم میں شامل کرنا زیادہ بہتر آپشن دکھائی دیتا ہے۔ وہ نئی گیند سے سوئنگ پیدا کرسکتے ہیں اور اگر شروع میں پاکستان کو وکٹیں مل گئیں تو بڑی کامیابی ہوگی۔
بابر اعظم پر بھی مسلسل تنقید جاری ہے، دراصل یہ بات اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ ٹی20 فارمیٹ میں ’کنگ‘ بھائی صاحب کا کوئی کام نہیں ہے لیکن چونکہ اب وہ اسکواڈ کا حصہ ہیں تو دوستی اور تعلق کو اہمیت دیے جانے کا امکان زیادہ نظر آتا ہے، اور لگتا ہے کہ وہ نیوزی لیںڈ کے خلاف بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے، لیکن یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اگر انہیں کھلانا ہی ہے تو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی ضروری ہے۔
بابر کو 4 کے بجائے 3 نمبر پر موقع دینا زیادہ مناسب ہوگا جبکہ سلمان علی آغا کو 4 نمبر پر آنا چاہیے۔ سلمان میں پاور ہٹنگ کی صلاحیت موجود ہے اور وہ درمیانی اوورز میں اسٹرائیک ریٹ بڑھا سکتے ہیں لیکن بابر اعظم سے یہ امید رکھنا دیوانوں کے خواب سے کم نہیں۔ ہاں اگر میرٹ پر بات کی جائے تو بابر کو بٹھا کر فخر زمان کو شامل کرنا بہت ہی مفید فیصلہ ہوسکتا ہے۔
ویسے تو جن کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کیا جانا ضروری ہے اس میں شاداب خان کا نام آنا بھی ضروری ہے مگر موصوف کا نصیب دیکھیے کہ کمزور نمیبیا کے خلاف انہوں نے بیٹنگ اور بولنگ کے کچھ جوہر دکھا دیے اس لیے اب یہ سوال اٹھانا بھی نامعقول عمل لگتا ہے کہ کیا وہ ٹیم میں ہوں گے یا نہیں، وہ یقیناً ٹیم کا حصہ ہوں اور لگتا ہے کہ ان کے لیے ابرار احمد کو قربانی کا بکرا بننا پڑے گا۔
اس لیے بظاہر ٹیم یہی نظر آرہی ہے یا میری نظر میں ہونی چاہیے۔ صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، بابراعظم، سلمان علی آغا، عثمان خان، محمد نافع، شاداب خان، محمد نواز، نسیم شاہ، سلمان مرزا اور عثمان طارق۔
بات سیدھی اور سادی یہ ہے کہ نمیبیا کے خلاف ملنے والے اعتماد کو بنیاد بنا کر میدان میں اترنا ہوگا۔ بھارت کے خلاف شکست کے بعد جو ذہنی دباؤ پیدا ہوا تھا، اسے مکمل طور پر پیچھے چھوڑنا ہوگا کیونکہ سپر 8 جیسے مرحلے میں ہچکچاہٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
اگر پاکستان یہ میچ جیت لیتا ہے تو انگلینڈ کے خلاف صورتحال اتنی مشکل نظر نہیں آتی۔ انگلینڈ پورے ایونٹ میں متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ نیپال کے خلاف محض 4 رنز سے کامیابی اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست نے اس کی کمزوریاں عیاں کردی ہیں۔
اسی طرح میزبان سری لنکا نے اگرچہ آسٹریلیا کو شکست دے کر سب کو حیران کیا، مگر زمبابوے کے ہاتھوں ہار نے اس کی غیر مستقل مزاجی ظاہر کردی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی سے شروعات کی جائے اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا جائے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گزشتہ 15 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس وقت وی نیوز میں بطور نیوز ایڈیٹر منسلک ہیں۔
پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سیمی فائنل نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سیمی فائنل نیوزی لینڈ نیوزی لینڈ کے لینڈ کے خلاف ضروری ہے یہ ہے کہ کے لیے اس لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔