تعمیراتی کاموں پر خیبر پختونخوا حکومت کا ٹیکس لگانا قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے تعمیراتی خدمات پر ٹیکس عائد کرنے کو قانونی قرار دے دیا۔جسٹس عامر فاروق نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ قوانین کو آئینی بنیادوں پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی کیونکہ آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے، آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے ریکارڈ طلب کر سکے۔
عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے، یہ شق تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں اشیاء شامل نہیں ہیں۔
معاشرے میں سماجی انصاف یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقین کو ملکر کام کرنا ہوگا:وزیر اعلیٰ مریم نواز
فیصلے میں کہا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیاء پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر دو مرتبہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ معاہدے اور طریقہ کار موجود ہیں۔
مزید برآں ریونیو اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے اصول وضع کرے جن کے تحت ٹھیکیدار کے مجموعی بجٹ کو سروسز اور سامان کی مد میں الگ الگ تقسیم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔