data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے علاقے سولجر بازار میں پیش آنے والے ہولناک گیس دھماکے اور عمارت منہدم ہونے کے سانحے نے شہر کو سوگوار کر دیا، جہاں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد اب قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کرتے ہوئے عمارت کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ سانحے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے، جس نے حادثے کی ہولناکی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق سولجر بازار تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل بالسبب، تعمیرات میں سنگین غفلت، غیر قانونی تعمیر، املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں عمارت کے مالک محمد ارشاد کو نامزد کیا گیا ہے، جسے پولیس نے حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ عمارت 40 گز کے پلاٹ پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی، جہاں گراؤنڈ پلس تھری منزلہ ڈھانچہ کھڑا کیا گیا تھا، جو قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق عمارت کی تعمیر میں ٹی آر گارڈر اور ٹائلوں کا وسیع استعمال کیا گیا، تاہم گیس لائن سمیت بنیادی حفاظتی انتظامات کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پہلی منزل پر مقیم خاتون زیب النساء نے سحری کے وقت معمول کے مطابق چولہا جلایا، مگر ناقص اور غیر معیاری گیس پائپ لائن میں شدید لیکیج کے باعث کمرے میں گیس جمع ہو چکی تھی۔ جیسے ہی ماچس جلائی گئی، ایک زوردار دھماکہ ہوا جس نے لمحوں میں پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا اور تین منزلہ ڈھانچہ زمین بوس ہو گیا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ دھماکہ کسی دھماکا خیز مواد کے باعث نہیں بلکہ ناقص گیس پائپ لائن میں لیکیج اور بند کمرے میں گیس جمع ہونے کے نتیجے میں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق محمد ارشاد نے 2007 اور 2008 کے دوران غیر قانونی طور پر اس پلاٹ پر گراؤنڈ پلس تھری عمارت تعمیر کی، جبکہ گیس کنکشن بھی غیر معیاری پلاسٹک پائپوں کے ذریعے غیر قانونی انداز میں فراہم کیا گیا، جو اس المناک سانحے کی بنیادی وجہ بنا۔

دوسری جانب واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے سانحے کے لمحات کو آنکھوں کے سامنے زندہ کر دیا ہے، سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سحری کے وقت صبح 3 بج کر 47 منٹ پر اچانک زوردار دھماکہ ہوتا ہے، جس کے فوراً بعد پورا علاقہ گرد و غبار کی لپیٹ میں آ جاتا ہے، چند ہی سیکنڈ میں خوفزدہ مکین اپنے گھروں سے باہر نکل آتے ہیں اور متاثرہ عمارت کی جانب دوڑ پڑتے ہیں، جہاں ہر طرف چیخ و پکار اور افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور غیر قانونی تعمیرات اور ناقص گیس کنکشن فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے المناک حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے تھے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ کئی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سولجر بازار سی سی ٹی کے مطابق کیا گیا میں گیس کے باعث کر دیا کی گئی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل