’جِنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں‘، یہ جملہ بچپن سے سنتی آرہی تھی۔ ہر بار یہ جملہ سن کر دل میں لاہور دیکھنے کی خواہش مچل جاتی تھی۔ لیکن جب پہلی بار آفیشل اسائنمنٹ کے سلسلے میں لاہور کا سفر درکار ہوا تو دعوؤں کے برعکس شہر اپنی سحر انگیزی ظاہر نہ کرسکا۔ شاید یہ وجہ بھی رہی ہو کہ بس کام نمٹایا کیا اور فوراً واپسی کی راہ لی۔
دوستوں کے پرزور اور بہتیرے اصرار کے باوجود کبھی دوبارہ لاہور کا رختِ سفر نہ باندھ سکی۔ پھر ایک دن اچانک اِک عزیز دوست کی رنگا رنگ پیکجز سے بھرپور کال آئی کہ دل پھر مچل اٹھا۔ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس ہو رہی تھی، ساتھ ہی لٹریچر فیسٹیول جاری تھا اور بسنت کی رونقیں بھی عروج پر تھیں۔ کیوں نہ اس موقع کا فائدہ اٹھایا جائے؟ نا چاہتے ہوئے بھی ویکلی آف کی مناسبت سے ہامی بھرلی۔ یوں 25 سال بعد بسنت کی بہار بھی دیکھی اور پہلی بار لٹریچر فیسٹیول کی فیسٹیویٹی سے محظوظ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: چلتے ہو تو رتی گلی جھیل کو چلیے
موٹر وے کی آرام دہ ڈرائیو اور ساتھ چلتی دو طرفہ ہریالی سوچوں کے در واہ کر دیتی ہے، رستہ اسی تانے بانے میں کٹ گیا کہ کب لاہور مجھے یہ کہنے پر مجبور کرے گا کہ واقعی! لہور لہور اے۔
لاہور کی حدود میں داخل ہوتے ہی خوشگوار احساس نے دامن تھا لیا۔ سڑکوں کی سجاوٹ، برقی قمقموں کی روشنیوں نے شہر کی رونق دوبالا کر رکھی تھی، مجھے یوں لگا کہ لاہور میرے لیے چشم براہ ہے۔ اس والہانہ استقبال نے لمحوں میں دل موہ لیا۔ رات گئے بسنت کی روشنیوں کے درمیان لاہور دیکھنے پر یوں لگا جیسے پیرس کی فضاؤں میں سانس لے رہی ہوں۔
اگلے دن عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کی، سیاسی گرماگرمی میں ڈوبی شعلہ بیاں تقریریں سنیں، مختلف الخیال لوگوں سے ملاقات بھی رہی لیکن فوکس یہی تھا کہ اس بار اندرون لاہور دیکھے بنا واپس جانا ہی نہیں۔
میزبان دوست کے ساتھ لاہور کے تاریخی دروازوں اور گلیوں کی سیر بھی کی۔ بادشاہی مسجد، دہلی گیٹ، مسجد وزیرخان، ٹکسالی گیٹ، ہر جگہ زندگی کی الگ خوشبو تھی۔ چھوٹی بڑی دکانیں، رنگ برنگے ٹھیلے، ہر چیز اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ کچھ گلیوں میں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے پرانے زمانے میں قدم رکھ دیا ہو اور تاریخ فلمی پردے پر چل رہی ہو۔
مختلف محلوں سے ہوتے ہوئے، شاہی محلے کے سامنے پہنچے اور تاریخی ہیرا منڈی دیکھنے کا موقع بھی ملا، جہاں کبھی پیار بکتا اور خواب خریدے جاتے تھے۔ ہر کوٹھے کے سامنے ایک بالکونی تھی جہاں کبھی خواتین دام فریب میں آنے والوں کے لیے اپنے جلوے بکھیرتی تھیں۔ یہ مناظر دیکھ کر ذہن میں طوائفوں کی زندگیوں پر مبنی کہانیاں اور فلمی سین چلنے لگے۔
وقت کی ستم ظریفی کہیں یا ’کام و انداز‘ میں جدت کے باعث اب یہ محلہ بدل گیا ہے۔ آج یہ لاہور کی معروف فوڈ سٹریٹ بن چکی ہے جہاں انواع و اقسام کے پکوانوں کی خوشبو اور ذائقے ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ رونق اور گہما گہمی والے کوٹھے اور بالکونیاں اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں لیکن گزرے وقت کے دھندلے نقش اب بھی ہر گلی، ہر بالکونی، ہر موڑ اور بند کھڑکیوں پر دستک دیتے ہیں۔
بھوک نے ہُوک اٹھائی تو سامنے ہی تنور سے برق رفتاری سے اترتی روٹیوں کی گندمی خوشبو نے دل موہ لیا۔ بھٹکتی آنکھوں نے اردگرد ریڑھیوں اور دکانوں پر’مینیو‘ ترتیب دینا شروع کردیا۔ پائے، نہاری، دیسی مرغ، چنے، تکے، کباب، وغیرہ وغیرہ۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ بھوک کی تمازت نے خوشبوؤں اور رنگوں سے ماحول جادوی بنادیا تھا۔ ہم نے فوراً متفقہ فیصلہ لیا کہ دیسی مرغ اور مرغ چنے کے گرم گرم نوالے اور ساتھ ہی لسی جی کے نمکین ٹھنڈے ٹھار گھونٹ۔ ہر نوالہ لذت کام و دہن کو دوبالا کر رہا تھا۔
شام کے وقت بی بی پاک دامن کی زیارت کی۔ راستے میں چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں، نذرانے کے لیے مٹھائیاں، پھول اور دیگر اشیا دستیاب تھیں۔ دربار کے احاطے میں داخل ہوتے ہی حیران کن منظر تھا۔ زیارت کے ایک جنگلے پر سینکڑوں چھوٹے بڑے تالے عقیدت مند خواتین کی دُعاؤں کے ساتھ ’لاک‘ تھے۔ ہر تالا امیدوں اور دل کی آرزو کا پہریدار تھا۔ دعا کی، من کی مراد مانگی اور پچھلے پہر خاموشی سے واپس ہولیے۔
سورج کی پہلی کرن نے کبوتروں کی دلکش نیٹ ساؤنڈ کے ساتھ دن کا آغاز کیا۔ نیا دن، نیا تجربہ۔ لاہور لٹریچر فیسٹیول۔ کتابوں کی خوشبو، دانشوروں کی گفتگو، نوجوانوں کا جوش، آٹوگرافس کی طلب، سیلفیوں کی بوچھاڑ، ہر منظر زندگی سے بھرپور تھا۔ دل چاہتا تھا وقت وہیں تھم جائے مگر ذہن میں بندھی واپسی کی ٹکٹکی یاد دلاتی رہی کہ سفر ختم ہونے کو ہے۔
’جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی‘، واپسی کے وقت دل عجب سی کیفیت میں مبتلا تھا۔ وقت اب بھی کم تھا لیکن اس بار لاہور نے اپنی چھب دکھلا دی تھی، اپنے رنگ مجھ میں انڈیل دیے تھے۔ لٹریچر فیسٹیول کی فکری روشنی، بی بی پاک دامن کی روحانی فضا، اندرون لاہور کی تاریخی سانسیں سب دل پر نقش ہو چکی تھیں۔ سوچا، واقعی جو ایک بار لاہور دیکھ لے وہ ہمیشہ کے لیے اس شہر کا چاہنے والا بن جاتا ہے۔ ایک فلک شگاف نعرہ لگا کر اپنا وعدہ نبھایا ’لہور لہور اے‘۔
’ نکاح والی گلی‘ دیکھنے کی خواہش دل میں رہ گئی۔ شاید انہی آدھی ادھوری خواہشوں کا نام لاہور ہے۔ یہ شہر خواہش کا دائرہ مکمل نہیں ہونے دیتا تاکہ آپ دوبارہ لوٹ آئیں۔ سچ یہی ہے کہ لاہور ایک بار نہیں دیکھا جاتا اسے بار بار جیا جاتا ہے۔ اِک بار دل میں بس جائے تو یادوں کے دریچوں کو ہمیشہ کھلا رکھتا ہے۔ بقول ناصؔر کاظمی
شہر لاہور تری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الحمرا بادشاہی مسجد بی بی پاک دامن لاہور لاہور بسنت ہیرا منڈی لٹریچر فیسٹیول کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔