بھارت: کرکٹ میچ کے دوران شہد کی مکھیوں کے حملے میں امپائر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست اترپردیش کے اناؤ میں کرکٹ کے میدان میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ کھیل کی دنیا کو ہلا کر رکھ گیا، جہاں اسٹیڈیم میں شہد کی مکھیوں کے اچانک حملے کے دوران سینئر امپائر مانک گپتا جان بحق ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مانک گپتا کانپور کرکٹ سرکٹ کے ایک ممتاز اور تجربہ کار امپائر تھے اور کانپور کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ وابستگی رکھتے تھے، حادثہ اترپردیش کے سپرو اسٹیڈیم میں کرکٹ میچ کے دوران پیش آیا، جب اچانک شہد کی مکھیوں کے جھنڈ نے اسٹیڈیم میں موجود کھلاڑیوں اور امپائرز پر حملہ کر دیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس حملے کے دوران کئی افراد خوف زدہ ہو کر بھاگنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن سینئر امپائر مانک گپتا اپنی عمر رسیدگی اور جسمانی محدودیت کے باعث حملے سے بچ نہ سکے اور انکی موت واقع ہو گئی۔
آنجہانی امپائر کے بھائی امیت کمار گپتا نے میڈیا کو بتایا کہ میچ ختم ہونے کے بعد مانک ڈرنکس بریک کے دوران ایک ساتھی امپائر سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے، تبھی مکھیوں کے ایک جھنڈ نے اچانک حملہ کر دیا۔ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں مانک کا توازن بگڑ گیا اور وہ گر پڑے، جس کے بعد مکھیوں نے ان پر دھاوا بول دیا۔
تقریباً 30 سال سے کرکٹ امپائرنگ کرنے والے مانک گپتا ریاستی پینل کے تجربہ کار امپائر تھے اور ان کی خدمات کرکٹ حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
ان کے ساتھی امپائر جگدیش شرما نے بھی بتایا کہ وہ اور دیگر امپائرز ڈرنکس بریک کے دوران بھاگنے میں کامیاب ہوئے، لیکن مانک گپتا شہد کی مکھیوں سے آگے نہ نکل سکے اور حملے کا شکار ہو گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہد کی مکھیوں مکھیوں کے مانک گپتا کے دوران
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔