انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس: کردار، عالمی سیاست اور پاکستان کی ممکنہ شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
گزشتہ روز ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان تاحال انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کا حصہ نہیں بنا۔ پاکستان نے اپنی ریڈلائنز ڈرا کی ہیں اور بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت صرف غزہ کے امن کے لیے ہے لیکن پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم قدم
عالمی سفارت کاری اور سلامتی کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس ایک اہم تصور کے طور پر ابھری ہے، جس کا مقصد جنگ زدہ علاقوں میں امن قائم کرنا اور عبوری انتظامات کو مستحکم بنانا ہے۔ خاص طور پر غزہ اور فلسطین کے پس منظر میں اس فورس کی تشکیل پر غور کیا جا رہا ہے، اور پاکستان سمیت کئی ممالک اس میں ممکنہ شمولیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عالمی امن منصوبہ اور نئی فورس کی تشکیلبورڈ آف پیس کے قیام کے بعد ایک عالمی فریم ورک سامنے آیا جس کا مقصد تنازعات کے بعد علاقوں میں عبوری انتظام اور تعمیر نو کے عمل کو مستحکم کرنا ہے۔ Board of Peace کے تحت مجوزہ فورس کو جنگ بندی کی نگرانی اور سیکیورٹی خلا کو پر کرنے کے لیے ایک ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کل (19 فروری 2026) کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں بھی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس ایک مرکزی ایجنڈا رہا۔ اجلاس میں متعدد ممالک نے فورس میں اپنے فوجی دستے فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ابتدائی طور پر انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسووو اور البانیا نے اپنے فوجی بھیجنے کی پابندیوں کا اعلان کیا۔ مصر اور اردن نے پولیس فورس کی تربیت میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ ابتدائی تعیناتی رفح، جنوبی غزہ میں متوقع ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کی تازہ ترین وضاحتپاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اجلاس میں اپنے مؤقف کو واضح کیا۔
مزید پڑھیے: غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ ٹرمپ کا اہم اعلان
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے لیے تیار ہے، مگر یہ شمولیت صرف اور صرف پاکستان کی واضح شرائط اور قانونی ضمانتوں کے تحت ہوگی۔ ہم امن کے مشنز میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں، لیکن ہم کسی ایسے مینڈیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں پاکستان کی قومی سالمیت یا دفاعی مفادات سے سمجھوتہ ہو۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ فورس کا مقصد صرف امن اور استحکام ہو، کسی جارحیت یا مسلح کارروائی کا حصہ نہ ہو، اور یہ شمولیت اقوامِ متحدہ کے قانونی فریم ورک کے تحت ہو۔
انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کا بنیادی کردارمتوقع طور پر اس فورس کا بنیادی مقصد امن معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سیکیورٹی فراہم کرنا ہوگا۔ اس میں جنگ بندی کی نگرانی، انسانی امداد کی حفاظت، مقامی سیکیورٹی اداروں کی تربیت اور عبوری سول انتظامیہ کو معاونت جیسے عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ فورس بنیادی طور پر امن قائم کرنے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو تحفظ دینے کے لیے ہوگی۔
مزید پڑھیں: 8 عرب اسلامک ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت کا خیرمقدم، مشترکہ اعلامیہ جاری
انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف اس امن مشن کے اصولی حصہ کے طور پر شامل ہوگا، نہ کہ کسی طرف داری یا جارحانہ کارروائی میں۔
پاکستان کی ممکنہ شمولیت: سفارتی اور عسکری پہلوپاکستان دنیا کے بڑے امن مشنز میں حصہ لینے والا ملک رہا ہے، اور اس فورس میں شمولیت اسے عالمی سطح پر اہم کردار عطا کر سکتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم اس فورس میں شمولیت پر مثبت انداز سے غور کر رہے ہیں، مگر کسی بھی اقدام سے قبل فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اسٹرکچر اور قانونی دائرہ کار کی وضاحت ضروری ہے۔
ممکنہ شرائط جن پر پاکستان کی شمولیت ہو سکتی ہے، ان میں واضح مینڈیٹ اور قانونی جواز ہو یعنی فورس کی توثیق اقوام متحدہ یا متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے ہونی چاہیے۔ شفاف کمانڈ اینڈ کنٹرول یعنی فورس کی قیادت متوازن اور آزاد ہو۔ غیر جانبداری یعنی فورس کو کسی فریق کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ واضح مدت اور ایگزٹ اسٹریٹجی یعنی تعیناتی کی مدت اور واپسی کا طریقہ پہلے سے واضح ہو۔ اس کے علاوہ مالی و لاجسٹک معاونت یعنی مشنز کے لیے مناسب وسائل اور انتظامی سپورٹ ہو۔
گزشتہ روز کی پریس بریفنگ میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں تاکہ فلسطینی عوام خصوصاً غزہ میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینا بڑی کامیابی ہے، طاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس فورس میں شمولیت سے ممکنہ طور پر کچھ فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں جیسا کہ بین الاقوامی تعاون، عسکری تربیت اور سیکیورٹی کی مہارت میں اضافہ بھی اہم فوائد میں شمار ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سفارتی مبصرین کی آراءبین الاقوامی پالیسی تھنک ٹینکس اور مبصرین کے مطابق، ISF کی کامیابی کا انحصار واضح سیاسی روڈ میپ اور مقامی فریقین کی رضامندی پر ہوگا۔ International Crisis Group کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی استحکامی فورس کی ناکامی کا سبب غیر واضح مینڈیٹ یا سیاسی حمایت کی کمی ہو سکتی ہے۔ کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے تجربہ کار امن مشن ممالک کی شمولیت فورس کے لیے اعتماد پیدا کر سکتی ہے، تاہم کمانڈ اسٹرکچر کے غیر واضح ہونے سے آپریشنل مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
عالمی ردعمل اور بحثبین الاقوامی حلقے اس فورس کے گورننس ماڈل، اختیارات اور شمولیت کے سیاسی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر مینڈیٹ واضح نہ ہوا تو عالمی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر اسے جنگ کے بعد استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ‘غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس ایک نیا عالمی تجربہ ہے جس میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت اس کے امن مشنز میں تاریخی کردار کے تسلسل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اپنے واضح شرائط اور قانونی تحفظات کے ساتھ اس فورس میں شامل ہونا چاہتا ہے، تاکہ قومی مفادات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان بہترین توازن برقرار رکھا جا سکے۔ کل کے بورڈ آف پیس اجلاس میں پاکستان نے ابھی کوئی فوجی عزم ظاہر نہیں کیا، بلکہ فورس کے مینڈیٹ اور قواعد کی وضاحت کے بعد ممکنہ شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس بورڈ آف پیس طاہر حسین اندرابی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس بورڈ ا ف پیس طاہر حسین اندرابی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس بورڈ ا ف پیس میں فورس میں شمولیت غزہ بورڈ ا ف پیس بین الاقوامی ممکنہ شمولیت ترجمان دفتر میں پاکستان اس فورس میں کہ پاکستان پاکستان کی اور قانونی اجلاس میں کے طور پر نے کہا کہ شامل ہو فورس کے ہو سکتی سکتی ہے فورس کا فورس کی کے لیے کے بعد رہا ہے کا حصہ
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔