غزہ میں امن کا راستہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے سے مشروط ہے، حماس
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں کسی بھی سیاسی یا تعمیر نو کے عمل کا آغاز اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے سے ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے بعد غزہ میں حماس دوبارہ منظم، کنٹرول مستحکم کرنے کی کوششیں تیز
حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جب تک اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں اور فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک خطے میں پائیدار امن یا بحالی کا عمل ممکن نہیں۔
دوسری جانب غزہ کی تعمیر نو اور مستقبل سے متعلق امور پر غور کے لیے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ممالک نے فلسطینی علاقے کی بحالی کے لیے مالی اور افرادی وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کا مقصد جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے: 37 فلسطینی شہید، حماس نے شدید نتائج کی وارننگ دے دی
واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل امریکا امن بحالی حماس ڈونلڈ ٹرمپ غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا بحالی ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔