غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ غزہ کی بحالی اور استحکام کے لیے ہر ممکن طریقے سے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
فیدان کا کہنا تھا کہ معاملہ چاہے انسانی امداد کا ہو، غزہ کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا، انفرا اسٹرکچراور سپراسٹرکچر کی بحالی کا یا بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا، انقرہ ہر شعبے میں ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔
یہ بیان انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ہونے والے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے فوراً بعد دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
اجلاس میں 45 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام کی وسیع تر کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سربراہانِ مملکت اور حکومت کی سطح پر ہونے والا یہ پہلا اجلاس علامتی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ٹھوس وعدوں کا باعث بھی بنا۔
فیدان نے کہا کہ غزہ کی بحالی صرف عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ مقامی انتظامی اداروں کی فعالیت کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:
ان کے بقول غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے، اس لیے مقامی حکومت کے اداروں کی ازسرِنو تشکیل اور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات کی استعداد میں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کی نیشنل کمیٹی برائے انتظام کے ساتھ رابطہ جاری ہے، جو 15 رکنی ٹیکنوکریٹ باڈی ہے اور اس کی سربراہی فلسطینی ماہر علی شعث کر رہے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں علی شعث سے حکمرانی اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تبادلہ خیال بھی کیا۔
مزید پڑھیں:
وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیہ ہ فوری انسانی امداد سے آگے بڑھ کر صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
پولیس تربیت اور ممکنہ عسکری کرداروزیر خارجہ ہاکان فیدان کے مطابق بحران کے آغاز سے ہی ترکیہ نے سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے ذریعے انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو امدادی سامان لے کر ایک ترک بحری جہاز مصر کی بندرگاہ پہنچا ہے جہاں سے سامان غزہ روانہ کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر 20 ہزار رہائشی کنٹینرز بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترک وزارتِ صحت کے ذریعے طبی انخلا اور فیلڈ اسپتالوں کی خدمات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں:
ہاکان فیدان نے کہا کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد افراد کے لیے امن و امان اور عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مقامی پولیس فورس کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ اس مقصد کے لیے پولیس اہلکاروں کی تربیت فراہم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ فریقین متفق ہوں تو ترک صدر استحکام فورس میں فوج بھیجنے کے خواہاں ہیں۔
فیدان نے زور دیا کہ ترکیہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مضبوط احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استحکام فورس بورڈ آف پیس پولیس ٹریننگ ترکیہ رجب طیب اردوان سول سوسائٹی غزہ ہاکان فیدان وزیر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استحکام فورس بورڈ ا ف پیس پولیس ٹریننگ ترکیہ رجب طیب اردوان سول سوسائٹی ہاکان فیدان ہاکان فیدان نے کہا کہ کی بحالی انہوں نے کہ ترکیہ فیدان نے کہ ترک غزہ کی کے لیے
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔