آبنائے ہرمز سے جڑی یادیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: بہرحال ایرانی پائلٹ ہیلی کاپٹر سے زمین پر اتر آیا۔ اس وقت تک عمان کی مسلح افواج کے کئی ارکان نے ہیلی کاپٹر کو دو تین سو میٹر کے فاصلے سے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ پائلٹ نے یہ دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا لیے۔ لیکن گھیرا کیے ہوئے آرمی کے جوانوں میں سے کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس پائلٹ کے قریب جائے۔ حالانکہ اس نے اپنا اسلحہ زمین پر پھینک دیا تھا۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
اس سے قبل میں نے اپنے کالم میں ایران اور امریکہ کے مابین تنازعے میں ”آبنائے ہرمز“ کے کردار کا ذکر کیا تھا اور اس کی اسٹریٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالی تھی۔ اگر آبنائے ہرمز کا ذکر چل ہی نکلا ہے تو میں چاہوں گا کہ اس کے حوالے سے جڑی کچھ اپنی ذاتی یادوں کی بھی اپنے قارئین کے سامنے نقاب کشائی کروں۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آبنائے ہرمز کے جفرافیے کے حوالے عرض کیا تھا کہ یہ خلیج فارس کے درمیان پانی کی ایک تنگ گزرگاہ ہے جس کی مجموعی لمبائی تقریباً 160 کلومیٹر اور چوڑائی کے اعتبار سے اس کا سب سے تنگ حصہ تقریباً 33 کلو میٹر ہے۔ آبنائے ہرمز کے شمال میں اسلامی جمہوری ایران ہے جہاں ایران کی بندرگاہ، ”بندر عباس“ واقع ہے۔ جب کہ جنوب میں ”سلطنت آف عمان“ کا ساحل ہے۔
میں نے اپنی نوجوانی کے تقریباً دو سال عمان میں آبنائے ہرمز کے کنارے ایک علاقے ”خصب“ میں گزارے ہیں۔ میری عمر اس وقت تقریباً 23 سال تھی۔ یہ غالباً 1985ء کا سال تھا جب ایران اور عراق کے مابین ابھی جنگ جاری تھی۔ میں جس کمپنی میں جاب کرتا تھا اس نے آبائے ہرمز کے کنارے ایک ریڈار کی تنصیب کا ٹھیکہ لیا ہوا تھا۔ جو ظاہر ہے جنگ کے ماحول میں عمان کی دفاعی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہی تھا۔ اپنے وہاں قیام کے دوران دو ایسے واقعات پیش آئے جو ابھی تک میرے متخیلہ میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ تقریباً 18 بنگلہ دیشی نوجوانوں کا ملازمت کے لیے غیر قانونی طریقے سے عمان کے ساحل تک پہنچنے اور پھر عبرت ناک انجام سے دوچار ہونے کے حوالے سے ہے۔
ہوا یوں کہ اٹھارہ افراد کا یہ گروہ بنگلہ دیش سے غیرقانونی طور پر اپنے گھروں سے عمان جانے کے لیے نکلا۔ ان کی منزل مقصود ”مسقط“ تھی جو ”عمان“ کا دارالحکومت ہے۔ ان تارکین وطن کی رودادِ سفر سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ روزگار کے حصول کے لیے کس طرح اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ لوگ غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے بھارت پہنچے۔ اس کے بعد یہ بھارت سے پاکستان اور پھر کراچی کے سمندری راستے سے ایک ماہ بعد کئی قسم کی مشکلات برداشت کرتے ہوئے عمان کے ساحل یا آبنائے ہرمز کے کنارے پہنچے جس کے قریب ہی ہمارا بھی قیام تھا۔ لیکن شومئ قسمت کہ ان رہ نوردوں کے لیے یہ کنارہ ان کی منزل کا کنارہ ثابت نہیں ہوا بلکہ یہ انہیں کسی اور ہی گم وادی میں لے گیا جو موت کی وادی تھی۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ یہ مسافرانِ شب گزیدہ جس آبنائے ہرمز کے کنارے پر اترے وہاں دور دور تک کوئی ایک پودا بھی نہیں تھا جس کی اوٹ میں وہ خود کو چھپا سکتے۔
وقت بھی دن کا تھا اور یہ علاقہ ایک صحرائی علاقہ تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سیکیورٹی کے اداروں کو مخبری ہو چکی تھی۔ ان عرب ریاستوں کی سیکیورٹی فورسز کے اپنے ہیں دستور ہوتے ہیں۔ وہ فیصلے میں دیر نہیں کرتے۔ چنانچہ یہاں بھی یہی ہوا۔ انہوں نے بغیر کسی وارننگ کے روزگارِ حیات کے ان تمام طلبگاروں کے کاسہءگدائی میں موت کی گولیاں ڈال دیں۔ یہ واقعہ مجھے ابھی تک نہیں بھولا۔ دوسرا واقعہ جو میری یادوں کے جزیرے میں ابھی تک آباد ہے، کچھ اس طرح ہے کہ انہی دنوں آبنائے ہرمز کے کنارے پر واقع اس علاقے میں ایک ایرانی ہیلی کاپٹر نے بغیر اجازت لینڈنگ کی جو عراق کے خلاف کسی جنگی مشن پر تھا۔ لینڈنگ کی وجہ شاید ہیلی کاپٹر میں کچھ فنی خرابی تھی یا کچھ اور۔
بہرحال پائلٹ ہیلی کاپٹر سے زمین پر اتر آیا۔ اس وقت تک عمان کی مسلح افواج کے کئی ارکان نے ہیلی کاپٹر کو دو تین سو میٹر کے فاصلے سے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ پائلٹ نے یہ دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا لیے۔ لیکن گھیرا کیے ہوئے آرمی کے جوانوں میں سے کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس پائلٹ کے قریب جائے۔ حالانکہ اس نے اپنا اسلحہ زمین پر پھینک دیا تھا۔ جو لوگ مڈل ایسٹ کی ریاستوں میں رہ کر آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان ریاستوں کی ریگولر آرمی کے مقابلے میں ان کی پولیس زیادہ سمارٹ ہوتی ہے۔ لہذا اب اس سے اگلہ اقدام اٹھایا گیا اور ایرانی پائلٹ کی گرفتاری کے لیے پولیس کے بھی کئی جوان بلا لیے گئے۔ حالانکہ کسی ایک تنہا اور غیر مسلح شخص کو پکڑنے کے لیے دو تین آدمی ہی کافی ہوتے ہیں لیکن یہاں دو سو کے قریب عمانی سیکیورٹی کے افراد جمع ہوچکے تھے۔
بہرحال، خدا خدا کر کے، اس ہوا باز کو پکڑ لیا گیا۔ سننے میں یہ آیا تھا کہ اس کے بعد ”ایرانی پاسداران“ نے دھمکی دی تھی کہ اگر صبح تک اس پائلٹ کو چھوڑا نہ گیا تو اس علاقے پر بمباری کریں گے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ تک خبر پہنچنے سے پہلے ہی اس پائلٹ کو چھوڑ دیا گیا۔ ان دنوں جنگ عین عروج پر تھی۔ عرب ریاستوں کو امریکی لابی نے ڈرایا ہوا تھا کہ انقلاب اسلامی انہیں بہا لے جائے گا۔ اسی ڈر کے سبب ہی بعض عرب ریاستیں اس وقت ایران کے خلاف صدام حسین کی بھرپور مدد کر رہی تھیں۔ انہیں دنوں ایک بار مجھے وہاں مسقط میں ایک نماز جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ نماز کے اختتام کے بعد مسجد کے امام نے جو دعا سب سے زیادہ گڑگڑا کے مانگی وہ یہ تھی کہ ”اے خدا ! ہمیں ”فتنۃ الایرانیہ“ سے بچا!“ یعنی ہمیں ایرانی فتنے سے بچا!۔ البتہ عمان کی حکومت نے بعد میں خود عربوں کے پھیلائے ہوئے اس فتنے سے خود کو بڑی خوبصورتی سے بچا لیا۔
اس وقت کے عمان کے بادشاہ ”سلطان قابوس“ نے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کر لیے۔ باقی عرب سٹیٹس کے مقابلے میں عمان کی اس سیاسی پالیسی کی داد دینا پڑتی ہے۔ سمندر میں رہ کر مگرمچھوں سے بچنا آسان کام نہیں۔ عمان کی اس پالیسی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عمان کی ریاست اس وقت باقی عرب ریاستوں کے مقابلے میں قدرے غریب ریاست تھی۔ غربت کے اس پیمانے کی رو سے یمن کے بعد دوسرا درجہ عمان کا تھا۔ عمان کے اسی مقام کی وجہ سے باقی عرب ریاستوں میں اس کی جو بے توقیری تھی، اس نے اس کے دل میں ایک شعلہء بغاوت بلند کیا اور اس نے اپنے لیے باقی عرب ریاستوں سے الگ راستہ منتخب کیا جو اس کی کامیابی کا راستہ ثابت ہوا۔ بہرحال آبنائے ہرمز سے جڑے مذکورہ بالا دو واقعات ایسے تھے جنہیں میں اب تک بھلا نہ سکا اور جنہوں نے اب تک میری یادوں کے سمندر میں آبنائے ہرمز کی طرح کا ایک راستہ بنایا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آبنائے ہرمز کے کنارے عرب ریاستوں ہیلی کاپٹر اس پائلٹ عمان کی کے قریب عمان کے تھی کہ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔