فیفا اور بورڈ آف پیس کا غزہ کی تعمیر نو کے لیے تعاون کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
عالمی فٹبال تنظیم فیفا اور بورڈ آف پیس نے غزہ کی تعمیر نو اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فٹبال کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک اہم شراکت داری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ معاہدہ واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے دوران طے پایا، جس کا بنیادی مقصد غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی رہنماؤں اور اداروں سے مالی معاونت حاصل کرنا ہے، اس بورڈ کا قیام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے پروگرام کا آغاز
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا اور فٹبال کو ترقی، روزگار اور سماجی بہتری کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت غزہ میں اسکولوں اور رہائشی علاقوں کے قریب 50 چھوٹے فٹبال گراؤنڈز، مختلف اضلاع میں 5 بڑے گراؤنڈز، ایک جدید فیفا اکیڈمی اور 20 ہزار نشستوں پر مشتمل قومی اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ فٹبال سے متعلق منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایسے تو مسئلہ کشمیر بھی بورڈ آف پیس میں جا سکتا ہے‘، مودی سرکار پریشانی کا شکار
فیفا کے مطابق اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے باقاعدہ لیگز کا انعقاد اور مقامی معیشت کو فروغ دینا بھی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں سکیورٹی صورتحال، تعمیر نو کے اخراجات اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے عوامل اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم چیلنجز ثابت ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا امن بحالی تعمیر نو ڈونلڈ ٹرمپ غزہ فٹبال فیفا معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بحالی ڈونلڈ ٹرمپ فٹبال فیفا معاہدہ غزہ کی تعمیر نو تعمیر نو کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔