کوئٹہ: بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے متعلق علماء اور مشائخ کا کہنا ہے کہ صوبے میں بدامنی محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی، معاشی اور بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔بلوچستان میں 31 جنوری کو پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں علماء اور مشائخ کی جانب سے کوئٹہ میں کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں امن، مصالحت اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحق حقانی نے کہا کہ 31 جنوری کو پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات سنگین قومی المیہ ہیں اور انہیں وقتی ردعمل یا محض مقامی مسئلہ سمجھنا حقیقت سے انحراف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعات صرف عوامی محرومیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی منظم سازش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے پیچیدہ سیاسی، معاشی اور غیر ملکی عوامل کارفرما ہیں، جن میں غیر اسلامی اور پاکستان دشمن عناصر بھی شامل ہوسکتے ہیںتقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان کے حالات شدید خراب ہوئے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلوچستان میں دہشت گردی کے کہنا تھا کہ علماء اور کا کہنا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔