طاقت، مذاکرات اور فیصلہ کن لمحہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی بازدار طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کا ذریعہ۔؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان ہے۔ طاقت کا مظاہرہ اکثر اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ اگر سفارتکاری کامیاب ہوتی ہے تو یہ کشیدگی وقتی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو خطہ ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوسکتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت اور مذاکرات کے درمیان توازن ہی آنیوالے دنوں کا تعین کرے گا۔ ایران کی بازدار حکمت عملی، امریکہ کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر بناتے ہیں۔ تحریر: سید عدنان زیدی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحری نقل و حرکت، سخت بیانات اور پسِ پردہ سفارت کاری نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ ایک طرف ایران اپنی "بازدار طاقت" پر زور دے رہا ہے، تو دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی دباؤ کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی بڑے تصادم کے دہانے پر ہیں یا یہ سب جنگ کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔؟ بین الاقوامی تعلقات میں "ڈیٹرنس" یا بازدار طاقت کا تصور نیا نہیں۔ سرد جنگ کے دور میں United States اور Soviet Union کے درمیان طاقت کا توازن اسی اصول پر قائم رہا کہ اگر ایک فریق حملہ کرے گا تو دوسرا ناقابلِ برداشت جواب دے گا۔ اسی توازن نے براہِ راست جنگ کو روکے رکھا۔
ایران بھی اسی تصور کو اپنی قومی سلامتی کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر اس کی عسکری صلاحیت مضبوط نہ ہو تو بیرونی دباؤ اور ممکنہ حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس تناظر میں میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی اتحادیوں کی موجودگی کو ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ جب بھی عالمی تنازع بڑھتا ہے، سفارت کاری متحرک ہو جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں Geneva ایک بار پھر پس منظر میں اہم سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بھی حساس عالمی مذاکرات اسی شہر میں ہوتے رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں فریق مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
United States کی پالیسی عمومی طور پر "پریشر اینڈ نیگوشی ایشن" یعنی دباؤ اور بات چیت کے امتزاج پر مبنی رہی ہے۔ اقتصادی پابندیاں، خطے میں فوجی موجودگی اور اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری اور عسکری سرگرمیوں میں شفافیت دکھانی چاہیئے، جبکہ ایران اسے اپنی خود مختاری میں مداخلت سمجھتا ہے۔ یہی بنیادی تضاد کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شام، یمن، عراق اور فلسطین جیسے تنازعات سے گزر رہا ہے۔ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے کے ذریعے تیل کی ترسیل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
خطے کے ممالک بھی دو واضح کیمپوں میں بٹے نظر آتے ہیں۔۔۔۔ کچھ ایران کے قریب، کچھ امریکہ کے ساتھ۔ یہی تقسیم مستقبل کے کسی بھی بحران کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی بازدار طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کا ذریعہ۔؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان ہے۔ طاقت کا مظاہرہ اکثر اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ اگر سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے تو یہ کشیدگی وقتی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو خطہ ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوسکتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت اور مذاکرات کے درمیان توازن ہی آنے والے دنوں کا تعین کرے گا۔ ایران کی بازدار حکمت عملی، امریکہ کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر بناتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کی بازدار کے درمیان حکمت عملی دباؤ اور طاقت کا جنگ کو
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔