Islam Times:
2026-06-02@20:46:33 GMT

طاقت، مذاکرات اور فیصلہ کن لمحہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

طاقت، مذاکرات اور فیصلہ کن لمحہ

اسلام ٹائمز: اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی بازدار طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کا ذریعہ۔؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان ہے۔ طاقت کا مظاہرہ اکثر اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ اگر سفارتکاری کامیاب ہوتی ہے تو یہ کشیدگی وقتی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو خطہ ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوسکتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت اور مذاکرات کے درمیان توازن ہی آنیوالے دنوں کا تعین کرے گا۔ ایران کی بازدار حکمت عملی، امریکہ کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر بناتے ہیں۔ تحریر: سید عدنان زیدی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحری نقل و حرکت، سخت بیانات اور پسِ پردہ سفارت کاری نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ ایک طرف ایران اپنی "بازدار طاقت" پر زور دے رہا ہے، تو دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی دباؤ کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی بڑے تصادم کے دہانے پر ہیں یا یہ سب جنگ کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔؟ بین الاقوامی تعلقات میں "ڈیٹرنس" یا بازدار طاقت کا تصور نیا نہیں۔ سرد جنگ کے دور میں United States اور Soviet Union کے درمیان طاقت کا توازن اسی اصول پر قائم رہا کہ اگر ایک فریق حملہ کرے گا تو دوسرا ناقابلِ برداشت جواب دے گا۔ اسی توازن نے براہِ راست جنگ کو روکے رکھا۔

ایران بھی اسی تصور کو اپنی قومی سلامتی کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر اس کی عسکری صلاحیت مضبوط نہ ہو تو بیرونی دباؤ اور ممکنہ حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس تناظر میں میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی اتحادیوں کی موجودگی کو ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ جب بھی عالمی تنازع بڑھتا ہے، سفارت کاری متحرک ہو جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں Geneva ایک بار پھر پس منظر میں اہم سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بھی حساس عالمی مذاکرات اسی شہر میں ہوتے رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں فریق مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

United States کی پالیسی عمومی طور پر "پریشر اینڈ نیگوشی ایشن" یعنی دباؤ اور بات چیت کے امتزاج پر مبنی رہی ہے۔ اقتصادی پابندیاں، خطے میں فوجی موجودگی اور اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری اور عسکری سرگرمیوں میں شفافیت دکھانی چاہیئے، جبکہ ایران اسے اپنی خود مختاری میں مداخلت سمجھتا ہے۔ یہی بنیادی تضاد کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شام، یمن، عراق اور فلسطین جیسے تنازعات سے گزر رہا ہے۔ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے کے ذریعے تیل کی ترسیل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

خطے کے ممالک بھی دو واضح کیمپوں میں بٹے نظر آتے ہیں۔۔۔۔ کچھ ایران کے قریب، کچھ امریکہ کے ساتھ۔ یہی تقسیم مستقبل کے کسی بھی بحران کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی بازدار طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کا ذریعہ۔؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان ہے۔ طاقت کا مظاہرہ اکثر اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ اگر سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے تو یہ کشیدگی وقتی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو خطہ ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوسکتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت اور مذاکرات کے درمیان توازن ہی آنے والے دنوں کا تعین کرے گا۔ ایران کی بازدار حکمت عملی، امریکہ کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر بناتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی بازدار کے درمیان حکمت عملی دباؤ اور طاقت کا جنگ کو

پڑھیں:

اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.

FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟