Islam Times:
2026-07-23@23:53:57 GMT

طاقت، مذاکرات اور فیصلہ کن لمحہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

طاقت، مذاکرات اور فیصلہ کن لمحہ

اسلام ٹائمز: اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی بازدار طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کا ذریعہ۔؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان ہے۔ طاقت کا مظاہرہ اکثر اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ اگر سفارتکاری کامیاب ہوتی ہے تو یہ کشیدگی وقتی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو خطہ ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوسکتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت اور مذاکرات کے درمیان توازن ہی آنیوالے دنوں کا تعین کرے گا۔ ایران کی بازدار حکمت عملی، امریکہ کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر بناتے ہیں۔ تحریر: سید عدنان زیدی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحری نقل و حرکت، سخت بیانات اور پسِ پردہ سفارت کاری نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ ایک طرف ایران اپنی "بازدار طاقت" پر زور دے رہا ہے، تو دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی دباؤ کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی بڑے تصادم کے دہانے پر ہیں یا یہ سب جنگ کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔؟ بین الاقوامی تعلقات میں "ڈیٹرنس" یا بازدار طاقت کا تصور نیا نہیں۔ سرد جنگ کے دور میں United States اور Soviet Union کے درمیان طاقت کا توازن اسی اصول پر قائم رہا کہ اگر ایک فریق حملہ کرے گا تو دوسرا ناقابلِ برداشت جواب دے گا۔ اسی توازن نے براہِ راست جنگ کو روکے رکھا۔

ایران بھی اسی تصور کو اپنی قومی سلامتی کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر اس کی عسکری صلاحیت مضبوط نہ ہو تو بیرونی دباؤ اور ممکنہ حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس تناظر میں میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی اتحادیوں کی موجودگی کو ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ جب بھی عالمی تنازع بڑھتا ہے، سفارت کاری متحرک ہو جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں Geneva ایک بار پھر پس منظر میں اہم سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بھی حساس عالمی مذاکرات اسی شہر میں ہوتے رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں فریق مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

United States کی پالیسی عمومی طور پر "پریشر اینڈ نیگوشی ایشن" یعنی دباؤ اور بات چیت کے امتزاج پر مبنی رہی ہے۔ اقتصادی پابندیاں، خطے میں فوجی موجودگی اور اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری اور عسکری سرگرمیوں میں شفافیت دکھانی چاہیئے، جبکہ ایران اسے اپنی خود مختاری میں مداخلت سمجھتا ہے۔ یہی بنیادی تضاد کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شام، یمن، عراق اور فلسطین جیسے تنازعات سے گزر رہا ہے۔ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے کے ذریعے تیل کی ترسیل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

خطے کے ممالک بھی دو واضح کیمپوں میں بٹے نظر آتے ہیں۔۔۔۔ کچھ ایران کے قریب، کچھ امریکہ کے ساتھ۔ یہی تقسیم مستقبل کے کسی بھی بحران کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی بازدار طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کا ذریعہ۔؟ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان ہے۔ طاقت کا مظاہرہ اکثر اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ اگر سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے تو یہ کشیدگی وقتی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو خطہ ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوسکتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقت اور مذاکرات کے درمیان توازن ہی آنے والے دنوں کا تعین کرے گا۔ ایران کی بازدار حکمت عملی، امریکہ کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت۔۔۔ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر بناتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی بازدار کے درمیان حکمت عملی دباؤ اور طاقت کا جنگ کو

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار