افغان رجیم خواتین پر ظلم و ستم کی عالمی علامت بن چکا، ہیلری کلنٹن کی طالبان رجیم پرکڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلی کلنٹن نے افغان طالبان رجیم پر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی، شہری آزادیوں پر قدغنیں اور خواتین کے حقوق کی پامالی طالبان رجیم کا ٹریڈ مارک بن چکی۔
بین الاقوامی جریدے فارن افئیرز میں شائع ہونے والے ہیلری کلنٹن کے مضمون کے مطابق اقتدار پر قابض طالبان رجیم نےافغان خواتین کو سیاسی،سماجی اور معاشرتی زندگی سے مکمل طور پر خارج کردیا،طالبان رجیم نے خواتین کی ثانوی تعلیم، یونیورسٹیوں میں داخلے اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں۔
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ افغان خواتین کےتعلیم و ملازمت پر پابندیاں طالبان رجیم کے اقتدار کو طول دینے کے ہتھکنڈےہیں،افغان طالبان مذہب کی آڑ میں نصف آبادی کو خاموش کر کے اپنی طاقت مضبوط کر رہے ہیں،طالبان رجیم کا خواتین پر ظلم آمرانہ اقتدار کو مضبوط کر رہا ہے اسے روکنا اخلاقی اور سیاسی فریضہ ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان رجیم عوامی فلاح کے بجائے کنٹرول اور نظریاتی غلبے کو ترجیح دے رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات عام افغان شہریوں بلخصوص خواتین پر پڑ رہے ہیں،خواتین کے حقوق پر حملہ، معلومات اور معاش سے محروم کرنا طالبان رجیم کی طاقت مستحکم کرنے کی سفاک حکمت عملی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طالبان رجیم خواتین کے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔