واشنگٹن(نیوز ڈیسک)سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلی کلنٹن نے افغان طالبان رجیم پر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تنقید  کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی، شہری آزادیوں پر قدغنیں اور خواتین کے حقوق کی پامالی طالبان رجیم کا ٹریڈ مارک بن چکی۔

بین الاقوامی جریدے فارن افئیرز میں شائع ہونے والے ہیلری کلنٹن کے مضمون کے مطابق اقتدار پر قابض طالبان رجیم نےافغان خواتین کو سیاسی،سماجی اور معاشرتی زندگی سے مکمل طور پر خارج کردیا،طالبان رجیم نے خواتین کی ثانوی تعلیم، یونیورسٹیوں میں داخلے اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ افغان خواتین کےتعلیم و ملازمت پر پابندیاں طالبان رجیم کے اقتدار کو طول دینے کے ہتھکنڈےہیں،افغان طالبان مذہب کی آڑ میں نصف آبادی کو خاموش کر کے اپنی طاقت مضبوط کر رہے ہیں،طالبان رجیم کا خواتین پر ظلم آمرانہ اقتدار کو مضبوط کر رہا ہے اسے روکنا اخلاقی اور سیاسی فریضہ ہے۔

ماہرین کے مطابق طالبان رجیم عوامی فلاح کے بجائے کنٹرول اور نظریاتی غلبے کو ترجیح دے رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات عام افغان شہریوں بلخصوص خواتین پر پڑ رہے ہیں،خواتین کے حقوق پر حملہ، معلومات اور معاش سے محروم کرنا طالبان رجیم کی طاقت مستحکم کرنے کی سفاک حکمت عملی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: طالبان رجیم خواتین کے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار