خواتین تاجران 2013 میں ترمیم کے خلاف ، پریس کانفرنس ملتوی ہونے پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)کراچی سمیت ملک کے اہم ترین ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی عہدیداران نے فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرم شیخ پر یہ الزام عائد کیا کہ اْنہوں نے منگل کو فیڈریشن ہائوس میں ٹریڈ آرگنائزیشن رول 2013 کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ترمیمی بل کے خلاف ہونے والی پریس کانفرنس ملتوی کر کے خواتین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے اور ہماری ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے باوجود ہم اپنے اپنے گروپس کی قیادت کے ساتھ ہیں۔ ویمن چیمبرز کی عہدیداران جن کا تعلق یونائٹیڈ بزنس گروپ،بزنس مین پینل پروگریسو اور فیڈریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی سے ہے ،اْنہوں نے ٹریڈ آرگنائزیشن رول 2013 میں ترمیم کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے پیش کئے گئے بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اِس رول کے تحت120چیمبرز بن چکی ہیں اور اگر ترمیم کی گئی تو ان تمام چیمبرز کا مستقبل تاریک کرنے کے مترادف ہوگا اوریہ ساری چیمبرز نہ صرف ختم ہو جائیں گی بلکہ اْن کے مسائل کے حل کے لیے اٹھنے والی ساری آوازوں کو بھی خاموش کردے گی۔ صاحبزادی ماہین خان فاونڈر صدر کورنگی ویمن چیمبر نے اس موقع پر کہا کہ کراچی چیمبر میں خواتین کی کبھی کوئی سنوائی نہیں ہے اور اگر یہ امنڈمنٹ ہوگئی تو ویمن چیمبرز سے خواتین کے حق کے لیے اٹھنے والی آواز دب جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ٹریڈ باڈیز کے لیے ایک ہی ایکٹ لاگو ہوتا ہے اور ایسا نہیں کہ کراچی کے لیے الگ ہو اور ملک کے دیگر شہروں کے لیے الگ قانون ہو۔ بانی صدر کراچی ویمن چیمبر آف کامرس ملیر نازلی عابد نثار نے کہا کہ2013ایکٹ میں تبدیلی کے خلاف ہم نے پریس کانفرنس کرنا چاہی لیکن ہماری آواز کو دبا دیا گیا،تمام ڈسٹرکٹ چیمبر کو ختم کرکے ایک چیمبر بنانے کی سازش میگا سٹی کراچی کے7ڈسٹرکٹ کی جگہ ایک چیمبر کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے،ہم خواتین کو بہت مشکل کے ساتھ ڈسٹرکٹ کی سطح پر چیمبر میں لائے اور ان کے این ٹی این بنوائے تاکہ وہ ٹیکس نیٹ میں آئیں ،اب سوال یہ ہے کہ کیا ملیر یا کورنگی کی 500یا اس سے زائد تجارتی خواتین کو ایک سوکالڈ چیمبر فسیلیٹیشن فراہم کرسکے گا؟ میری ایف پی سی سی آئی کے صدر،سینئرنائب صدر اور نائب صدور سے مطالبہ ہے کہ ہمارا ساتھ دیں۔بہاولپور ویمن چیمبر کی سابق صدر ناہید مسعود نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ہی خواتین تاجروں کو سپورٹ کیا ہے اور میں مکمل طور سے ٹریڈ آرگنائزیشن رول 2013 میں کسی بھی متوقع تبدیلی کی مخالف ہوں،یہ سوچ غلط ہے کہ تمام ویمن چیمبر ختم کرکے شہر کا ایک چیمبر بنایا جائے ،اس سے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔ویمن انٹرپرینورز کی رہنما فریدہ قریشی،شمیم ممتاز خان،شبانہ آصف نے بھی پریس کانفرنس کو جبراً ختم کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔ علاوہ ازیں سرپرستِ اعلیٰ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن شرجیل گوپلانی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ا کی جانب سے ڈی جی ٹی او کے قانون میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے پیش کیا گیا بل تاجر برادری کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ یہ ترمیم ڈسٹرکٹ وائز چیمبرز کے انتخاب کے نظام کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جو جمہوری اقدار اور تاجروں کے حقِ نمائندگی کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013میں یہ بل ڈاکٹر فاروق ستار نے ہی پیش کیا تھا اوراب اس کی مخالفت میں بھی بل ڈاکٹر فاروق ستار نے ہی پیش کیا ہے،ڈسٹرکٹ اور زونل چیمبرز تاجروں، صنعتکاروں اور چھوٹے کاروباری طبقے کی مؤثر آواز ہوتے ہیں، ان نمائندوں کو اختیارات سے محروم کرنا نہ صرف کاروباری برادری کی آواز دبانے کے مترادف ہے بلکہ اس سے پالیسی سازی میں عدم توازن پیدا ہوگا اور چھوٹے و متوسط درجے کے تاجروں کو شدید نقصان پہنچے گا،پاکستان بھر میں سو کے قریب ڈسٹرکٹ چیمبرز آف کامرس تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر اس قسم کی ترامیم منظور کی گئیں تو مقامی سطح پر نمائندگی کا نظام کمزور پڑ جائے گا، جس کے اثرات براہِ راست تاجروں اور صنعتکاروں پر مرتب ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فاروق ستار پریس کانفرنس ویمن چیمبر نے کہا کہ ا ف کامرس کے خلاف ہے اور کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔