ہوٹلز، اسپتال اور کاروباری اداروں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ، پوائنٹ آف سیلز لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی شفافیت اور ٹیکس ریونیو کے تحفظ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 14 سے زائد شعبوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہوٹلز، ریسٹورینٹس، اسپتال، میرج ہالز، ہیلتھ کلبز اور دیگر کاروباری اداروں میں پوائنٹ آف سیلز (POS) انسٹال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا میں شائع جواد ملک کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت لانا اور تمام کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی ممکن بنانا ہے۔
کاروباری شعبوں میں پوائنٹ آف سیلز کا نفاذنوٹیفکیشن کے مطابق ہوٹلز، ریسٹورینٹس، گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز، مارکیز اور ریس کلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہے، تاہم جہاں ایئر کنڈیشنر کی سہولت موجود نہیں وہاں استثناء دی گئی ہے۔ دکانیں، ہوٹلز، کلبز، اسپتال اور بیوٹی پارلرز سمیت مختلف کاروباری اداروں کو ایف بی آر کے نظام سے منسلک کرنا لازمی ہوگا۔
صحت اور میڈیکل اداروں پر پابندیاںشہروں میں چلنے والی گاڑیوں، کورئیر اور کارگو سروسز کو بھی POS لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈینٹسٹ، فزیوتھراپسٹ، پلاسٹک اور ہیئر سرجنز، ویٹرنری ڈاکٹرز، میڈیکل لیب، ایکسرے، سی ٹی اور ایم آر آئی اسکین سینٹر پر بھی یہ شرط لاگو ہوگی۔ پرائیویٹ اسپتالوں اور 500 روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو استثنیٰ حاصل ہوگی۔
ہیلتھ کلبز، جم اور کاسٹ مینجمنٹ کے لیے ہدایاتہیلتھ کلبز، جمز، سوئمنگ پولز، ملٹی پرپز کلبز، سول اور نان سول پولو کلب، چارٹڈ اکاؤنٹنٹس اور کاسٹ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کے لیے بھی POS انسٹال کرنا لازمی ہوگا۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موجود جمخانے اور کلبز میں اس کا نفاذ کیا جائے گا۔
دیگر شعبوں میں آن لائن انٹیگریشنریٹیلرز، مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے لیے بھی آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فارن ایکسچینج ڈیلرز، کرنسی ایکسچینج کمپنیاں، نجی تعلیمی ادارے اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھی POS نظام کے تحت آئیں گے۔ ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو چھوٹ دی گئی ہے۔
مقصد اور حکمت عملیایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی شفافیت بڑھانے، ٹیکس کی وصولی میں بہتری لانے اور تمام کاروباری اداروں کی نگرانی کو آسان بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ٹیکس نظام مضبوط ہوگا بلکہ صارفین کے لیے بھی مالی لین دین میں سہولت اور شفافیت آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کاروباری اداروں پوائنٹ آف سیلز آن لائن کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم