خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ترجمان کا کہنا ہے کہ براگزئی ایکس-1 کنویں کی کھدائی کا آغاز 30 دسمبر 2024 کو کیا گیا تھا اور اس کنویں کو مجموعی طور پر 5,170 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا۔ کھدائی کے دوران مختلف زمینی فارمیشنز میں ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کے مرحلے پر تیل اور گیس کے آثار پہلے ہی سامنے آچکے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کیلئے اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع نشپا بلاک سے تیل اور گیس کی نئی دریافت کا اعلان کردیا۔ او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق نشپا بلاک میں براگزئی ایکس-1 کنویں سے یومیہ 225 بیرل تیل اور 10 لاکھ مکعب فٹ یومیہ گیس کی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ براگزئی ایکس-1 کنویں کی کھدائی کا آغاز 30 دسمبر 2024 کو کیا گیا تھا اور اس کنویں کو مجموعی طور پر 5,170 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا۔ کھدائی کے دوران مختلف زمینی فارمیشنز میں ڈرل اسٹیم ٹیسٹ کے مرحلے پر تیل اور گیس کے آثار پہلے ہی سامنے آچکے تھے۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق اس نئی دریافت سے نہ صرف ملکی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ہائیڈروکاربن ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تیل اور
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔