موضوع: ماہ رمضان اور تزکیہ نفس
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںپروگرام: دین و دنیا
موضوع: ماہ رمضان اور تزکیہ نفس
میزبان محمد سبطین علوی
مہمان: حجہ الاسلام والمسلمین غلام حر شبیری
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات گفتگو:
تزکیہ نفس سے کیا مراد ہے اور ماہ رمضان میں کیسے ممکن ہے؟
روزہ کا فلسفہ اور تزکیہ نفس کے حصول میں اسکا کردار
ماہ رمضان کے بعد کیسے اس تزکیہ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے
خلاصہ گفتگو:
تزکیۂ نفس سے مراد انسان کے باطن کو گناہوں، بُری عادتوں اور نفسانی خواہشات سے پاک کرنا اور اسے تقویٰ، اخلاص اور خدا کی یاد سے آراستہ کرنا ہے۔ قرآنِ کریم میں قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا، یعنی کامیاب وہ ہے جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔ ماہِ رمضان تزکیۂ نفس کا بہترین موقع ہے، کیونکہ روزہ انسان کو خواہشات پر قابو پانا سکھاتا ہے۔ بھوک اور پیاس برداشت کرنے سے صبر، ہمدردی اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ روزہ کا فلسفہ یہی ہے کہ انسان ظاہری بھوک کے ساتھ باطنی اصلاح بھی کرے، زبان کو جھوٹ سے، آنکھ کو گناہ سے اور دل کو کینہ سے بچائے۔ رمضان کے بعد اس تزکیہ کو محفوظ رکھنے کے لیے نماز کی پابندی، تلاوتِ قرآن، نوافل، اور نیک صحبت کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ مستقل محاسبۂ نفس اور اچھے اعمال کا تسلسل ہی حقیقی کامیابی کی ضمانت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تزکیہ نفس ماہ رمضان
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔