Islam Times:
2026-07-23@23:28:39 GMT

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 اور گہرائی 73 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن ہے۔ زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت 5.

6 اور گہرائی 73 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور اور گردونواح سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، خیبر پختون خوا کے بیشتر حصوں میں افطاری کے دوران 6 بج کر 10 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پشاور، دیر، ملاکنڈ، باجوڑ، مردان اور صوابی میں بھی زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے، وادی سون اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

پنجاب میں چکوال، تلہ گنگ، لاوہ، کلر کہار، چوآسیدن شاہ اورڈھڈیال میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے زلزلے سے کسی قسم کے نقصانات کی رپورٹ طلب کر لی ہے تاہم تا حال کسی جانی یا مال نقصان کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے زلزلے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں زلزلے کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ پوٹھوہار ریجن سرگودھا اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز افغانستان تھا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ متعلقہ انتظامیہ عمارتوں کی چیکنگ میں مصروف ہے، پی ڈی ایم اے کے صوبائی کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز 24/7 فعال ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے میں زلزلے کے پی ڈی ایم اے کا مرکز

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن