خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 اور گہرائی 73 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن ہے۔ زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت 5.
پنجاب میں چکوال، تلہ گنگ، لاوہ، کلر کہار، چوآسیدن شاہ اورڈھڈیال میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے زلزلے سے کسی قسم کے نقصانات کی رپورٹ طلب کر لی ہے تاہم تا حال کسی جانی یا مال نقصان کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے زلزلے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں زلزلے کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ پوٹھوہار ریجن سرگودھا اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز افغانستان تھا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ متعلقہ انتظامیہ عمارتوں کی چیکنگ میں مصروف ہے، پی ڈی ایم اے کے صوبائی کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز 24/7 فعال ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے میں زلزلے کے پی ڈی ایم اے کا مرکز
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔