صیہونی رژیم مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کے درپے
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: غاصب صیہونی رژیم نے اپنی توسیع پسندانہ اور غاصبانہ پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے ایک نئے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی جانب سے ملکیت کی دستاویزات فراہم نہ کرنے کی صورت میں، مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے کو "ریاستی زمینوں" کے طور پر ضبط کر لیا جائے گا۔ اس فیصلے پر شدید علاقائی اور بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور سیاسی مبصرین اسے "مرحلہ وار الحاق" قرار دے رہے ہیں۔ صیہونی رژیم کے عبرانی اخبار "کان" کے مطابق یہ تجویز صیہونی وزیر خزانہ بیزالل اسموتریچ، وزیر انصاف یاریو لوین اور وزیر دفاع یسرائیل کاتس نے پیش کی تھی۔ اسموتریچ نے اس اقدام کو "تمام زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے آبادکاری کے انقلاب" کا تسلسل قرار دیا جبکہ لوین نے اسے صیہونی رژیم کی جانب سے مغربی کنارے کے تمام حصوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے عزم کی علامت قرار دیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
غزہ کے خلاف تقریباً اڑھائی برس سے جاری فوجی جارحیت کے باعث اسرائیل کی غاصب صیہونی فوج انسانی وسائل کی شدید قلت سے روبرو ہے اور اسے 12 ہزار تازہ نفس فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ لہذا تل ابیب کی جنگی کابینہ اس کمی کو حریدی یہودیوں سے پورا کرنا چاہتی ہے جبکہ حریدی یہودی نہ صرف فوج میں شمولیت کے شدید مخالف ہیں بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کسی قسم کی سیاسی اور فوجی سرگرمی کو بھی اپنے عقائد کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ صیہونی کابینہ کی جانب سے حریدی یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے پر مبنی قانون منظور ہو جانے کے بعد مقبوضہ فلسطین کے گلی کوچے ناراض حریدی یہودیوں کے احتجاج اور مظاہروں کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ یہ افراتفری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ صیہونی پولیس کے سربراہ، ڈینی لیوی نے اپنے ایک بیان میں ان واقعات کو ایک ایسی کنٹرول سے باہر بغاوت قرار دیا جو تمام سرخ لکیریں پار کر چکی ہے۔
غاصب صیہونی رژیم کے انتہاپسند دائیں بازو کے وزراء نے قدامت پسند گروہوں کی مخالفت کم کرنے کے لیے مشرقی فلسطینی سرزمین پر نظریں جما رکھی ہیں۔ اس سلسلے میں تل ابیب نے مغربی کنارے کے زون سی، جو کہ انتظامی لحاظ سے صہیونی رژیم کے زیر کنٹرول ہے، کا بڑا حصہ اس بہانے سے اپنے قبضے میں لینا شروع کر دیا ہے کہ وہاں رہائشی عرب فلسطینی شہریوں کے پاس مالکیت کی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ تل ابیب کا یہ مخاصمانہ رویہ، ترکی، قطر، اردن اور مصر سمیت مغربی ایشیا کے عرب اسلامی ممالک کی جانب سے شدید مذمتی بیانات کا باعث بنا ہے۔ ان مسائل کے علاوہ بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے بھی صیہونی رژیم ایک قابض قوت کے طور پر فلسطین کے مختلف علاقوں، بالخصوص مغربی کنارے میں بستیاں تعمیر کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ تنظیم آزادی فلسطین، پی ایل او، اور صیہونی رژیم کے درمیان 1995ء میں منعقد ہونے والے اوسلو 2 معاہدے کے تحت مغربی کنارہ تین علیحدہ زون، اے بی اور سی میں تقسیم کیا گیا تھا۔
فلسطین پر غاصبانہ قبضہ بڑھانے کی جانب ایک نیا قدم
غاصب صیہونی رژیم نے اپنی توسیع پسندانہ اور غاصبانہ پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے ایک نئے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی جانب سے ملکیت کی دستاویزات فراہم نہ کرنے کی صورت میں، مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے کو "ریاستی زمینوں" کے طور پر ضبط کر لیا جائے گا۔ اس فیصلے پر شدید علاقائی اور بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور سیاسی مبصرین اسے "مرحلہ وار الحاق" قرار دے رہے ہیں۔ صیہونی رژیم کے عبرانی اخبار "کان" کے مطابق یہ تجویز صیہونی وزیر خزانہ بیزالل اسموتریچ، وزیر انصاف یاریو لوین اور وزیر دفاع یسرائیل کاتس نے پیش کی تھی۔ اسموتریچ نے اس اقدام کو "تمام زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے آبادکاری کے انقلاب" کا تسلسل قرار دیا جبکہ لوین نے اسے صیہونی رژیم کی جانب سے مغربی کنارے کے تمام حصوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے عزم کی علامت قرار دیا ہے۔
صیہونی انتہاپسند عناصر کو بھتہ
گزشتہ دنوں کے دوران مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اردگرد کے شہروں میں حریدی یہودیوں نے جبری فوجی سروس کے قانون کے خلاف احتجاج کیا اور اس دوران ان کی اسرائیلی پولیس اور سیکورٹی دستوں سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح بعض علاقوں جیسے بنی بارک میں تشدد آمیز ٹکراو بھی ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے حریدی یہودیوں کی جانب سے جبری فوجی سروس سے مستثنی قرار پانے کی ضد پر شروع ہوئے۔ یاد رہے جبری فوجی سروس کا مسئلہ اس وقت مقبوضہ فلسطینی معاشرے میں ایک متنازعہ مسئلہ بن چکا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صیہونی کابینہ، حریدی یہودیوں جیسے انتہاپسند اندرونی دھڑوں کی سیاسی حمایت محفوظ رکھنے کے لیے مغربی کنارے کو مقبوضہ سرزمینوں سے ملحق کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ تاہم، مغربی کنارے کے الحاق کا مطلب ملکی اور بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔
فلسطین کے حق میں علاقائی یکجہتی
غاصب صیہونی رژیم کی انسانی حقوق کے خلاف پالیسیوں نے تل ابیب کے خلاف مغربی ایشیائی خطے میں ایک بار پھر غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس سلسلے میں قطر کی وزارت خارجہ نے بھی صیہونی رژیم کی جانب سے مغربی کنارے میں جارحانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے "فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے غیرقانونی منصوبوں کا تسلسل" قرار دیا ہے۔ اس وزارت نے اپنے بیانیے میں غاصب صیہونی رژیم پر اس منصوبے کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر بین الاقوامی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اس کے سنگین نتائج کو روکا جا سکے۔ دوسری طرف ترکی کی وزارت خارجہ نے بھی صیہونی رژیم کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی کنارے میں اپنی خودمختاری مسلط کرنے اور آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیانیے میں ایسے اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں بالخصوص 2016ء کی قرارداد 2334 کی "کھلی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ اردن کی وزارت خارجہ نے غاصب صیہونی رژیم کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی شدید ترین خلاف ورزی قرار دیا۔ یاد رہے اس وقت 7 لاکھ سے زائد صیہونی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر کی گئی غیر قانونی بستیوں میں مقیم ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے اعلی ترین عدالتی ادارے نے 2024ء میں ایک مشاورتی اور غیر پابند رائے میں اعلان کیا تھا کہ فلسطینی سرزمینوں پر قبضے اور مغربی کنارے میں صیہونی رژیم کی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے اور انہیں جلد از جلد ختم کر دینا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی وزارت خارجہ نے غاصب صیہونی رژیم اور بین الاقوامی مغربی کنارے کے صیہونی رژیم کی صیہونی رژیم کے حریدی یہودیوں قرار دیا ہے کی جانب سے کے خلاف تل ابیب کرنے کے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔