رمضان المبارک کے پہلے جمعے کے موقعے پر اسرائیلی حکام نے فلسطینی نمازیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل میں جرائم کی لہر، فلسطینی شہری سب سے زیادہ متاثر مگر مجرموں کو سزا نہ ہونے کے برابر

سعودی گزٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا اور محدود تعداد میں ہی افراد کو جانے کی اجازت دی گئی۔

چیک پوسٹوں پر ہجوم، متعدد نمازی واپس

عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق سینکڑوں فلسطینی فجر سے قبل یروشلم کے اطراف قائم چیک پوسٹوں پر جمع ہوئے تاکہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز ادا کر سکیں تاہم متعدد افراد کو اجازت نامہ ہونے کے باوجود واپس لوٹا دیا گیا۔

اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے سے زیادہ سے زیادہ 10 ہزار فلسطینیوں کو، وہ بھی اجازت نامے کے ساتھ، مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جب اس موقع پر لاکھوں نمازی شریک ہوتے تھے۔

قلندیا چیک پوسٹ پر ہزاروں افراد پھنس گئے

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد ہزاروں افراد قلندیا چیک پوائنٹ پر ہی رک گئے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی فلسطین کے لیے 29ویں امدادی کھیپ روانہ، 100 ٹن خوراک لاہور سے بھیجی گئی

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صبح تک صرف تقریباً 2 ہزار فلسطینی ہی قلندیا کے راستے یروشلم میں داخل ہو سکے جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ برقرار رہا۔

رپورٹس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کی تقریباً 33 لاکھ آبادی کے مقابلے میں 10 ہزار افراد کو اجازت دینا نہایت قلیل تعداد ہے۔

ماضی میں رمضان کے پہلے جمعے پر ڈھائی لاکھ تک نمازی مسجد اقصیٰ میں جمع ہوتے رہے ہیں، جبکہ اس سال یہ تعداد اس سے کہیں کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بڑھتی کشیدگی اور انسانی حقوق کے خدشات

فلسطینی خبر رساں ادارے وافا کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ مغربی کنارے سے داخلے کا مقررہ کوٹہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: جنوری میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے مغربی کنارے میں ریکارڈ تعداد میں فلسطینی بے گھر ہوئے، اقوامِ متحدہ

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں گرفتاریوں اور بے دخلی کے احکامات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں فوجی چھاپوں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور تشدد کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے اقوام متحدہ دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق سنہ 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں 1100 سے زائد فلسطینی شہید اور 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

القدس کی حیثیت پر تنازع برقرار

فلسطینی مقبوضہ مشرقی یروشلم کو مستقبل کی ریاست فلسطین کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیل پورے شہر کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت سمجھتا ہے۔ یہی تنازع ہر سال رمضان کے دوران مقدس مقامات تک رسائی کو کشیدگی کا مرکز بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: فلسطینی ریاست کا قیام اصولی معاملہ ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

تازہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب فلسطینی حکام، انسانی حقوق کے ادارے اور اقوام متحدہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں غیر قانونی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، فائرنگ، املاک کو نذر آتش کرنے اور زمینوں پر قبضوں کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل کی زبردستی فلسطین فلسطینی نماز جمعہ سے محروم مسجد اقصی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل کی زبردستی فلسطین فلسطینی نماز جمعہ سے محروم اسرائیلی حکام نے کے مطابق

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد