اسرائیلی حکام نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں رمضان کا پہلا جمعہ پڑھنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
رمضان المبارک کے پہلے جمعے کے موقعے پر اسرائیلی حکام نے فلسطینی نمازیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل میں جرائم کی لہر، فلسطینی شہری سب سے زیادہ متاثر مگر مجرموں کو سزا نہ ہونے کے برابر
سعودی گزٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا اور محدود تعداد میں ہی افراد کو جانے کی اجازت دی گئی۔
چیک پوسٹوں پر ہجوم، متعدد نمازی واپسعینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق سینکڑوں فلسطینی فجر سے قبل یروشلم کے اطراف قائم چیک پوسٹوں پر جمع ہوئے تاکہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز ادا کر سکیں تاہم متعدد افراد کو اجازت نامہ ہونے کے باوجود واپس لوٹا دیا گیا۔
اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے سے زیادہ سے زیادہ 10 ہزار فلسطینیوں کو، وہ بھی اجازت نامے کے ساتھ، مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جب اس موقع پر لاکھوں نمازی شریک ہوتے تھے۔
قلندیا چیک پوسٹ پر ہزاروں افراد پھنس گئےفلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ کوٹہ مکمل ہونے کے بعد ہزاروں افراد قلندیا چیک پوائنٹ پر ہی رک گئے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی فلسطین کے لیے 29ویں امدادی کھیپ روانہ، 100 ٹن خوراک لاہور سے بھیجی گئی
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صبح تک صرف تقریباً 2 ہزار فلسطینی ہی قلندیا کے راستے یروشلم میں داخل ہو سکے جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ برقرار رہا۔
رپورٹس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کی تقریباً 33 لاکھ آبادی کے مقابلے میں 10 ہزار افراد کو اجازت دینا نہایت قلیل تعداد ہے۔
ماضی میں رمضان کے پہلے جمعے پر ڈھائی لاکھ تک نمازی مسجد اقصیٰ میں جمع ہوتے رہے ہیں، جبکہ اس سال یہ تعداد اس سے کہیں کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بڑھتی کشیدگی اور انسانی حقوق کے خدشاتفلسطینی خبر رساں ادارے وافا کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ مغربی کنارے سے داخلے کا مقررہ کوٹہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: جنوری میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے مغربی کنارے میں ریکارڈ تعداد میں فلسطینی بے گھر ہوئے، اقوامِ متحدہ
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں گرفتاریوں اور بے دخلی کے احکامات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں فوجی چھاپوں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور تشدد کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے اقوام متحدہ دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق سنہ 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں 1100 سے زائد فلسطینی شہید اور 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
القدس کی حیثیت پر تنازع برقرارفلسطینی مقبوضہ مشرقی یروشلم کو مستقبل کی ریاست فلسطین کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیل پورے شہر کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت سمجھتا ہے۔ یہی تنازع ہر سال رمضان کے دوران مقدس مقامات تک رسائی کو کشیدگی کا مرکز بنا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینی ریاست کا قیام اصولی معاملہ ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
تازہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب فلسطینی حکام، انسانی حقوق کے ادارے اور اقوام متحدہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں غیر قانونی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، فائرنگ، املاک کو نذر آتش کرنے اور زمینوں پر قبضوں کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل کی زبردستی فلسطین فلسطینی نماز جمعہ سے محروم مسجد اقصی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل کی زبردستی فلسطین فلسطینی نماز جمعہ سے محروم اسرائیلی حکام نے کے مطابق
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔