غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی کاز بھرپور انداز میں پیش کیا۔
انہوں نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں پاکستان کو نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف باعث فخر قرارعطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہے کہ صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ ملک کو بین الاقوامی سطح پر عزت اور احترام مل رہا ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے کیا کہا؟وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف کو مضبوط اور مدلل انداز میں پیش کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں سفارتی تنہائی کا شکار تھا، تاہم اب ہر بڑے عالمی معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب قیادت دیانتدار ہو تو نتائج ہمیشہ مثبت برآمد ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اجلاس میں وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔