فلسطین میں امن کیلئے دو ریاستی حل ناگزیر ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فلسطین میں امن کیلئے دو ریاستی حل ناگزیر ہے ،فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا پورا حق حاصل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ امن بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے آج کا دن سنہری باب ہے،فلسطینی عوام اسرائیل کے قبضے برداشت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں فوری ختم ہونی چاہئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں پائیدار امن پاکستان کا مشن ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تنازعات کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ صدر ٹرمپ کی مداخلت کے باعث پاک بھارت جنگ بندی ہوئی ،اس جنگ بندی سے ہزاروں جانیں بچیں ،امریکی صدر جنوبی ایشیا کو بچانے والی شخصیت ہیں ۔
لاہور:ٹرانسپورٹرز کو 15 دن کی مہلت، لین ڈسپلن یقینی بنانے کی ہدایت جاری
وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ دعا ہے امن کیلئے ٹرمپ کی کوششیں کامیاب ہوں ،تنازعات کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کا کردار لائق تحسین ہے،ٹرمپ کی سفارتکاری کئی تنازعات کے حل کا باعث بنی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: امن کیلئے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔