Islam Times:
2026-07-24@01:04:01 GMT

بین الاقوامی ڈاکو

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

بین الاقوامی ڈاکو

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کی یہ حکمت عملی نہ صرف امریکہ کی بچی کھچی طاقت بھی تباہ کر دے گی بلکہ طاقت کا توازن امریکہ کی حریف قوتوں کے حق میں بگڑ جائے گا۔ امریکہ کے اتحادی ماضی میں کسی حد تک اس غنڈہ گردی کو برداشت کرتے تھے کیونکہ امریکہ پر ان کا انحصار بہت زیادہ تھا لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ٹرمپ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسروں کا استحصال کر سکتی ہے اور اس سے امریکا مضبوط ہو گا لیکن یہ بہت شدید غلط فہمی ہے اور شکاریوں والی بالادستی کا سرانجام تباہی اور نابودی ہوتا ہے۔ ٹرمپ اور اس کی حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اگر مختصر مدت میں نہیں تو درمیانی مدت میں ضرور امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کی نابودی کا باعث بنے گا۔ وہی اثرورسوخ جس کی بدولت ٹرمپ آج بین الاقوامی ڈاکو کی طرح حکمرانی کر رہا ہے۔ تحریر: اسٹیون والٹ (تجزیہ کار فارن افیئرز)
 
گزشتہ کچھ عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف القابات سے نوازا گیا  ہے، جیسے حقیقت پسند، قوم پرست، پرانے زمانے کے تاجر، سامراجی اور تنہائی پسند۔ ان میں سے ہر لفظ ٹرمپ کے طرز عمل کے بعض حصے کی وضاحت تو پیش کرتا ہے لیکن شاید دوسری مدت صدارت میں ٹرمپ کی حکمت عملی بیان کرنے کی بہترین عبارت "شکاریوں والی بالادستی" ہو۔ اس عنوان کے تحت واشنگٹن کا بنیادی مقصد اپنے خاص مقام اور برتری کو بروئے کار لاتے ہوئے دوستوں اور دشمنوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک طرح سے سیاسی بھتے کی وصولی ہے جو کہ "خراج تحسین" کا مطالبہ کرنے اور دوسروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے پر مشتمل ہے۔ اس حکمت عملی کا واحد مقصد دوسروں کو نقصان پہنچانے کے بدلے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ یہاں اصل ہدف مختصر مدت کا فائدہ حاصل کرنا ہے نہ کہ ایک مستحکم آرڈر کی تشکیل دینا۔
 
مسلسل غلطیاں
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ نے غلطیوں پر غلطیاں کرنا شروع کر دیں جس کی بنیادی وجہ دنیا کے بارے میں غلط تصور تھا۔ یونی پولر دور میں امریکہ ایک قسم کے تکبر اور غرور کا شکار ہو گیا جس کے باعث وہ ایک لاپرواہ اور باغی طاقت بن گیا۔ چونکہ اس کے مدمقابل کوئی طاقتور حریف نہیں تھا اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ زیادہ تر ممالک امریکہ کی قیادت قبول کرنے اور اس کی لبرل اقدار کی پیروی کے مشتاق ہیں، لہذا واشنگٹن نے دوسرے ممالک کے تحفظات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ امریکہ نے افغانستان، عراق اور چند دیگر ممالک کے خلاف مہنگی اور غلط جنگیں انجام دیں اور اپنی دشمنانہ پالیسیوں کے باعث چین اور روس کو ایک دوسرے کے قریب لے آیا۔ اسی طرح اس نے عالمی منڈیوں کو اس انداز میں کھولا کہ ایک طرف چین نے تیز رفتار ترقی کی اور دوسری طرف عالمی سطح پر مالیاتی عدم استحکام کو بڑھاوا ملا۔
 
 شکاری حکومت
امریکہ کی خارجہ پالیسی میں غلطیوں کا عروج ٹرمپ حکومت کے دوران ظاہر ہوا ہے جہاں کسی بھی سابقہ پیراڈائم کے ذریعے موجودہ صورت حال کی وضاحت ممکن نہیں رہی۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ پوری طرح ایک شکاریوں والی بالادست طاقت بن چکا ہے۔ یہ حکمت عملی، ملٹی پولر دنیا کی واپسی پر ہم آہنگ اور سوچا سمجھا ردعمل نہیں ہے، بلکہ برعکس، ایک ایسی دنیا جس میں چند بڑی طاقتیں پائی جاتی ہیں، چلنے کا بدترین انداز ہے۔ یہ حکمت عملی ٹرمپ کی اس خاص نگاہ کا نتیجہ ہے جس سے وہ  تمام تعلقات کو دیکھتا ہے۔ وہ ہر تعلق کو ایک مختصر مدت کی تجارت کے طور پر دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ امریکہ دنیا کے تمام ممالک پر دباو ڈال سکتا ہے۔ ٹرمپ اپنی دوسری مدت میں دوسرے ممالک کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہے۔
 
تسلط اور ہار ماننا
اس شکاری ریاست کی خصوصیات کیا ہیں؟ اس خارجہ پالیسی کے دو بنیادی ستون، تسلط اور ہار ماننے پر استوار ہیں۔ شکاریوں کی مانند بالادست قوت، ایسی بڑی طاقت ہے جو دوسروں کے ساتھ تمام تعلقات کو اپنے مفادات کی بنیاد پر استوار کرتی ہے۔ یعنی ہر تعلق اور معاملے فائدہ ہمیشہ اسے ہونا چاہیے۔ ایسی طاقت کا اصل مقصد یہ نہیں ہوتا کہ سب کا فائدہ مدنظر رکھتے ہوئے دوسروں سے پائیدار تعلقات قائم کرے بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر معاملے میں اسے زیادہ حصہ نصیب ہو اور مدمقابل کو نقصان پہنچے۔ اس قسم کی حکمت عملی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے حریف اور دشمن سے بلکہ اپنے دوست اور اتحادی سے بھی فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ ایسی طاقت معاشی پابندیوں، مالی دباؤ، پڑوسی کو غربت کا شکار کرنے اور کرنسی میں ہیرا پھیری جیسے ہتھکنڈے بھی بروئے کار لا سکتی ہے۔
 
دوست اور دشمن
یہ ریاست اتنی لٹیری ہے کہ نہ صرف اپنے دشمنوں بلکہ اپنے دوستوں کو بھی بلیک میل کرنے سے باز نہیں آتی۔ ٹرمپ جس طرح اپنے دشمنوں پر دباو ڈالتا ہے تقریباً ویسے ہی اپنے روایتی اتحادیوں کو بھی پیچھے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کی دھمکیاں مسلسل جاری رہتی ہیں، ایک دن ان پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اگلے دن پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہی آگے اور پیچھے ہٹنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مدمقابل سے زیادہ سے زیادہ مراعات وصول کرنے کے درپے ہے۔ ٹرمپ کی نظر میں غیر یقینی طرز عمل بذات خود دوسرے سے اپنی بات منوانے کا بہترین ہتھکنڈہ ہے۔ اس کی مسلسل دھمکیوں اور بدلتے ہوئے مطالبات کے نتیجے میں دوسرے ہمیشہ اسے منانے کے لیے نت نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح اس طرز عمل کے باعث خود ٹرمپ توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔
 
مرتا ہوا شکاری
ٹرمپ کی یہ حکمت عملی نہ صرف امریکہ کی بچی کھچی طاقت بھی تباہ کر دے گی بلکہ طاقت کا توازن امریکہ کی حریف قوتوں کے حق میں بگڑ جائے گا۔ امریکہ کے اتحادی ماضی میں کسی حد تک اس غنڈہ گردی کو برداشت کرتے تھے کیونکہ امریکہ پر ان کا انحصار بہت زیادہ تھا لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ٹرمپ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسروں کا استحصال کر سکتی ہے اور اس سے امریکا مضبوط ہو گا لیکن یہ بہت شدید غلط فہمی ہے اور شکاریوں والی بالادستی کا سرانجام تباہی اور نابودی ہوتا ہے۔ ٹرمپ اور اس کی حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اگر مختصر مدت میں نہیں تو درمیانی مدت میں ضرور امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کی نابودی کا باعث بنے گا۔ وہی اثرورسوخ جس کی بدولت ٹرمپ آج بین الاقوامی ڈاکو کی طرح حکمرانی کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شکاریوں والی یہ حکمت عملی امریکہ کی ہے کہ وہ ہوتا ہے ٹرمپ کی ہے اور اور اس

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار