Islam Times:
2026-06-02@22:08:48 GMT

بین الاقوامی ڈاکو

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

بین الاقوامی ڈاکو

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کی یہ حکمت عملی نہ صرف امریکہ کی بچی کھچی طاقت بھی تباہ کر دے گی بلکہ طاقت کا توازن امریکہ کی حریف قوتوں کے حق میں بگڑ جائے گا۔ امریکہ کے اتحادی ماضی میں کسی حد تک اس غنڈہ گردی کو برداشت کرتے تھے کیونکہ امریکہ پر ان کا انحصار بہت زیادہ تھا لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ٹرمپ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسروں کا استحصال کر سکتی ہے اور اس سے امریکا مضبوط ہو گا لیکن یہ بہت شدید غلط فہمی ہے اور شکاریوں والی بالادستی کا سرانجام تباہی اور نابودی ہوتا ہے۔ ٹرمپ اور اس کی حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اگر مختصر مدت میں نہیں تو درمیانی مدت میں ضرور امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کی نابودی کا باعث بنے گا۔ وہی اثرورسوخ جس کی بدولت ٹرمپ آج بین الاقوامی ڈاکو کی طرح حکمرانی کر رہا ہے۔ تحریر: اسٹیون والٹ (تجزیہ کار فارن افیئرز)
 
گزشتہ کچھ عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف القابات سے نوازا گیا  ہے، جیسے حقیقت پسند، قوم پرست، پرانے زمانے کے تاجر، سامراجی اور تنہائی پسند۔ ان میں سے ہر لفظ ٹرمپ کے طرز عمل کے بعض حصے کی وضاحت تو پیش کرتا ہے لیکن شاید دوسری مدت صدارت میں ٹرمپ کی حکمت عملی بیان کرنے کی بہترین عبارت "شکاریوں والی بالادستی" ہو۔ اس عنوان کے تحت واشنگٹن کا بنیادی مقصد اپنے خاص مقام اور برتری کو بروئے کار لاتے ہوئے دوستوں اور دشمنوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک طرح سے سیاسی بھتے کی وصولی ہے جو کہ "خراج تحسین" کا مطالبہ کرنے اور دوسروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے پر مشتمل ہے۔ اس حکمت عملی کا واحد مقصد دوسروں کو نقصان پہنچانے کے بدلے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ یہاں اصل ہدف مختصر مدت کا فائدہ حاصل کرنا ہے نہ کہ ایک مستحکم آرڈر کی تشکیل دینا۔
 
مسلسل غلطیاں
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ نے غلطیوں پر غلطیاں کرنا شروع کر دیں جس کی بنیادی وجہ دنیا کے بارے میں غلط تصور تھا۔ یونی پولر دور میں امریکہ ایک قسم کے تکبر اور غرور کا شکار ہو گیا جس کے باعث وہ ایک لاپرواہ اور باغی طاقت بن گیا۔ چونکہ اس کے مدمقابل کوئی طاقتور حریف نہیں تھا اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ زیادہ تر ممالک امریکہ کی قیادت قبول کرنے اور اس کی لبرل اقدار کی پیروی کے مشتاق ہیں، لہذا واشنگٹن نے دوسرے ممالک کے تحفظات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ امریکہ نے افغانستان، عراق اور چند دیگر ممالک کے خلاف مہنگی اور غلط جنگیں انجام دیں اور اپنی دشمنانہ پالیسیوں کے باعث چین اور روس کو ایک دوسرے کے قریب لے آیا۔ اسی طرح اس نے عالمی منڈیوں کو اس انداز میں کھولا کہ ایک طرف چین نے تیز رفتار ترقی کی اور دوسری طرف عالمی سطح پر مالیاتی عدم استحکام کو بڑھاوا ملا۔
 
 شکاری حکومت
امریکہ کی خارجہ پالیسی میں غلطیوں کا عروج ٹرمپ حکومت کے دوران ظاہر ہوا ہے جہاں کسی بھی سابقہ پیراڈائم کے ذریعے موجودہ صورت حال کی وضاحت ممکن نہیں رہی۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ پوری طرح ایک شکاریوں والی بالادست طاقت بن چکا ہے۔ یہ حکمت عملی، ملٹی پولر دنیا کی واپسی پر ہم آہنگ اور سوچا سمجھا ردعمل نہیں ہے، بلکہ برعکس، ایک ایسی دنیا جس میں چند بڑی طاقتیں پائی جاتی ہیں، چلنے کا بدترین انداز ہے۔ یہ حکمت عملی ٹرمپ کی اس خاص نگاہ کا نتیجہ ہے جس سے وہ  تمام تعلقات کو دیکھتا ہے۔ وہ ہر تعلق کو ایک مختصر مدت کی تجارت کے طور پر دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ امریکہ دنیا کے تمام ممالک پر دباو ڈال سکتا ہے۔ ٹرمپ اپنی دوسری مدت میں دوسرے ممالک کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہے۔
 
تسلط اور ہار ماننا
اس شکاری ریاست کی خصوصیات کیا ہیں؟ اس خارجہ پالیسی کے دو بنیادی ستون، تسلط اور ہار ماننے پر استوار ہیں۔ شکاریوں کی مانند بالادست قوت، ایسی بڑی طاقت ہے جو دوسروں کے ساتھ تمام تعلقات کو اپنے مفادات کی بنیاد پر استوار کرتی ہے۔ یعنی ہر تعلق اور معاملے فائدہ ہمیشہ اسے ہونا چاہیے۔ ایسی طاقت کا اصل مقصد یہ نہیں ہوتا کہ سب کا فائدہ مدنظر رکھتے ہوئے دوسروں سے پائیدار تعلقات قائم کرے بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر معاملے میں اسے زیادہ حصہ نصیب ہو اور مدمقابل کو نقصان پہنچے۔ اس قسم کی حکمت عملی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے حریف اور دشمن سے بلکہ اپنے دوست اور اتحادی سے بھی فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ ایسی طاقت معاشی پابندیوں، مالی دباؤ، پڑوسی کو غربت کا شکار کرنے اور کرنسی میں ہیرا پھیری جیسے ہتھکنڈے بھی بروئے کار لا سکتی ہے۔
 
دوست اور دشمن
یہ ریاست اتنی لٹیری ہے کہ نہ صرف اپنے دشمنوں بلکہ اپنے دوستوں کو بھی بلیک میل کرنے سے باز نہیں آتی۔ ٹرمپ جس طرح اپنے دشمنوں پر دباو ڈالتا ہے تقریباً ویسے ہی اپنے روایتی اتحادیوں کو بھی پیچھے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کی دھمکیاں مسلسل جاری رہتی ہیں، ایک دن ان پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اگلے دن پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہی آگے اور پیچھے ہٹنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مدمقابل سے زیادہ سے زیادہ مراعات وصول کرنے کے درپے ہے۔ ٹرمپ کی نظر میں غیر یقینی طرز عمل بذات خود دوسرے سے اپنی بات منوانے کا بہترین ہتھکنڈہ ہے۔ اس کی مسلسل دھمکیوں اور بدلتے ہوئے مطالبات کے نتیجے میں دوسرے ہمیشہ اسے منانے کے لیے نت نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح اس طرز عمل کے باعث خود ٹرمپ توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔
 
مرتا ہوا شکاری
ٹرمپ کی یہ حکمت عملی نہ صرف امریکہ کی بچی کھچی طاقت بھی تباہ کر دے گی بلکہ طاقت کا توازن امریکہ کی حریف قوتوں کے حق میں بگڑ جائے گا۔ امریکہ کے اتحادی ماضی میں کسی حد تک اس غنڈہ گردی کو برداشت کرتے تھے کیونکہ امریکہ پر ان کا انحصار بہت زیادہ تھا لیکن برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ٹرمپ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوسروں کا استحصال کر سکتی ہے اور اس سے امریکا مضبوط ہو گا لیکن یہ بہت شدید غلط فہمی ہے اور شکاریوں والی بالادستی کا سرانجام تباہی اور نابودی ہوتا ہے۔ ٹرمپ اور اس کی حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اگر مختصر مدت میں نہیں تو درمیانی مدت میں ضرور امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ کی نابودی کا باعث بنے گا۔ وہی اثرورسوخ جس کی بدولت ٹرمپ آج بین الاقوامی ڈاکو کی طرح حکمرانی کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شکاریوں والی یہ حکمت عملی امریکہ کی ہے کہ وہ ہوتا ہے ٹرمپ کی ہے اور اور اس

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق