اعتبار ہی نئی طاقت ہے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اعتبار ہی نئی طاقت ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز
تحریر: قاسم جومارت توقایف، آستانہ،
قازقستان کے صدر نے وعدہ کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور دیانتدار شراکت دار ثابت ہوگا۔
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں استحکام نایاب ترین اسٹریٹجک وسائل میں شامل ہو چکا ہے۔ تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جغرافیائی سیاسی رقابت شدت اختیار کر رہی ہے، اور بین الاقوامی ادارے تعطل، قطبیت اور عوامی اعتماد میں کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔
کئی دہائیوں تک عالمی سیاست ایک ایسے تصورِ عالمگیریت کے تحت تشکیل پاتی رہی جو بذاتِ خود بنیادی طور پر غلط نہ تھا۔ اس کا اعلان کردہ مقصد — ایک باہم مربوط اور جامع بین الاقوامی نظام کی تشکیل — کم از کم نظری سطح پر معقول اور تعمیری تھا۔
تاہم وقت کے ساتھ یہ تصور مسخ ہو گیا۔ یہ ایک ایسے ماڈل میں تبدیل ہو گیا جو حد سے زیادہ نظریاتی مفروضوں پر مبنی تھا: ذمہ داری کے بغیر شمولیت، حدود کے بغیر آزادی، اور اخلاقی برتری (یا استثنائیت) کا ایسا دعویٰ جو خودمختار سوچ رکھنے والے معاشروں، حقیقت پسند پالیسی سازوں اور عام فہم رہنماؤں کی آرا کو نظرانداز کرتا تھا۔
نتیجتاً، عالمگیریت بتدریج دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی نظر میں اپنی ساکھ کھوتی گئی۔
اعتماد کا یہ زوال اتفاقیہ نہ تھا۔ اسے وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے انکشافات نے مزید تقویت دی — جو سرکاری اداروں، بین الاقوامی ڈھانچوں اور بڑے ممالک کے سیاسی نظاموں میں سرایت کیے ہوئے تھے۔ معروف سیاسی شخصیات کی ایسے معاملات میں شمولیت نے ان حکومتوں کے بارے میں پہلے سے موجود تنقیدی تاثر کو مزید گہرا کیا جو بائیں بازو کے نظریاتی ایجنڈوں سے منسلک سمجھی جاتی تھیں۔
موجودہ بین الاقوامی ماحول عملیت پسندی اور حقیقت پسندی کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تبدیلی میونخ میں واضح نظر آئی، جہاں مغربی رہنماؤں کے مؤثر بیانات میں ایک سادہ حقیقت پر زور دیا گیا: قومی مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خودمختاری کو بوجھ نہیں سمجھا جا سکتا، اور استحکام نظریاتی ہٹ دھرمی کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔
دنیا تعاون سے منہ نہیں موڑ رہی؛ بلکہ وہ فریبِ نظر سے دور جا رہی ہے۔ ابھرنے والا نیا نظریہ سادہ ہے: نظام قانون کی حکمرانی، ذمہ داری، قابلِ پیش گوئی وعدوں اور ثقافتی و قومی شناخت کے احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔ یہ تنہائی پسندی نہیں بلکہ سیاسی بلوغت ہے۔
پرانے ماڈل کی ناکامی سب سے زیادہ تنازعات کے حل میں نمایاں ہے۔ طویل عرصے تک عالمی برادری مذاکرات، اعلانات اور کانفرنسوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے پر انحصار کرتی رہی، جن کے نتائج محض علامتی بیانات تک محدود رہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے: عمل درآمد کے بغیر معاہدے، نتائج کے بغیر سفارت کاری، اور امن کے بغیر امن عمل۔
دنیا اب اس طرزِ عمل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
اسی لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر اقوامِ متحدہ کی مکمل توثیق کے ساتھ بورڈ آف پیس کا قیام ایک بامعنی قدم ہے۔ یہ محض ایک اور فورم نہیں جو طویل مباحث کے لیے تشکیل دیا گیا ہو، بلکہ ایک عملی اقدام ہے جس کا مقصد حقیقی نتائج حاصل کرنا ہے — خصوصاً غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں۔
اس اقدام کی بنیادی انفرادیت اس کی منطق میں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک حقیقی معنوں میں اختراعی طریقۂ کار پیش کیا ہے: فرسودہ سیاسی فارمولوں کو دہرانے کے بجائے ایک واضح اور براہِ راست فریم ورک پیش کیا گیا ہے — پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے امن۔ یعنی امن کو نعرہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ سمجھا گیا ہے: بنیادی ڈھانچہ، سرمایہ کاری، روزگار اور ایسا مستقبل جو دوبارہ تنازع کو غیر معقول بنا دے۔ اپنی جدت اور بلند ہمتی کے باعث یہ اقدام احترام اور عالمی توجہ کا مستحق ہے۔
قازقستان میں صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی سے وابستہ سیاسی اصولوں کے حوالے سے مثبت رجحان مختلف عوامی اور ماہرین کی سطح پر نمایاں ہے: عام فہم سوچ، روایتی اقدار کا تحفظ، قومی مفادات کا دفاع، اور جنگوں کو طول دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے کا عزم۔
یہ اصول اس لیے ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں کیونکہ یہ وہی چیزیں ہیں جن کی زیادہ تر معاشرے فطری طور پر خواہش رکھتے ہیں: سلامتی، استحکام اور وقار۔ قازقستان کی حمایت محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی ہے۔ اسی لیے ہم نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اور اسے عملی اقدامات کے ذریعے تقویت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ قازقستان کے ابراہام معاہدوں میں شامل ہونے کے فیصلے کا منطقی تسلسل ہے۔ یہ محض سفارتی اشارہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک انتخاب ہے۔ قازقستان نے ہمیشہ متوازن اور تعمیری مؤقف اپنایا ہے۔ ہمارے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، جبکہ ہم مستقل طور پر فلسطینی عوام کی حمایت اور دو ریاستی حل کو امن کی واحد پائیدار بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔ ہمارا فیصلہ قومی مفاد پر بھی مبنی ہے، جس کا مقصد اقتصادی تعاون کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ وسیع تر تناظر میں، ہمیں امید ہے کہ یہ مسلم اور یہودی دنیا کے درمیان مکالمے کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچھوٹوں گینگ کیس؛ دوران سماعت رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس امن مگر ہوشیاری کے ساتھ واشنگٹن اسٹیٹ: ایورگرین ریاست عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میں ریاستی اختیار اور انتظامی ذمہ داری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جادوئی جوش: ڈسکوری گرین پارک میں دیوہیکل ٹرافی نے ہیوسٹن کو رونق دے دی روڈ آئی لینڈ: سمندری ریاستCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم