Daily Sub News:
2026-06-02@22:42:35 GMT

اعتبار ہی نئی طاقت ہے

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

اعتبار ہی نئی طاقت ہے

اعتبار ہی نئی طاقت ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز

تحریر: قاسم جومارت توقایف، آستانہ،

قازقستان کے صدر نے وعدہ کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور دیانتدار شراکت دار ثابت ہوگا۔

دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں استحکام نایاب ترین اسٹریٹجک وسائل میں شامل ہو چکا ہے۔ تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جغرافیائی سیاسی رقابت شدت اختیار کر رہی ہے، اور بین الاقوامی ادارے تعطل، قطبیت اور عوامی اعتماد میں کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔

کئی دہائیوں تک عالمی سیاست ایک ایسے تصورِ عالمگیریت کے تحت تشکیل پاتی رہی جو بذاتِ خود بنیادی طور پر غلط نہ تھا۔ اس کا اعلان کردہ مقصد — ایک باہم مربوط اور جامع بین الاقوامی نظام کی تشکیل — کم از کم نظری سطح پر معقول اور تعمیری تھا۔

تاہم وقت کے ساتھ یہ تصور مسخ ہو گیا۔ یہ ایک ایسے ماڈل میں تبدیل ہو گیا جو حد سے زیادہ نظریاتی مفروضوں پر مبنی تھا: ذمہ داری کے بغیر شمولیت، حدود کے بغیر آزادی، اور اخلاقی برتری (یا استثنائیت) کا ایسا دعویٰ جو خودمختار سوچ رکھنے والے معاشروں، حقیقت پسند پالیسی سازوں اور عام فہم رہنماؤں کی آرا کو نظرانداز کرتا تھا۔

نتیجتاً، عالمگیریت بتدریج دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی نظر میں اپنی ساکھ کھوتی گئی۔

اعتماد کا یہ زوال اتفاقیہ نہ تھا۔ اسے وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے انکشافات نے مزید تقویت دی — جو سرکاری اداروں، بین الاقوامی ڈھانچوں اور بڑے ممالک کے سیاسی نظاموں میں سرایت کیے ہوئے تھے۔ معروف سیاسی شخصیات کی ایسے معاملات میں شمولیت نے ان حکومتوں کے بارے میں پہلے سے موجود تنقیدی تاثر کو مزید گہرا کیا جو بائیں بازو کے نظریاتی ایجنڈوں سے منسلک سمجھی جاتی تھیں۔

موجودہ بین الاقوامی ماحول عملیت پسندی اور حقیقت پسندی کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تبدیلی میونخ میں واضح نظر آئی، جہاں مغربی رہنماؤں کے مؤثر بیانات میں ایک سادہ حقیقت پر زور دیا گیا: قومی مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خودمختاری کو بوجھ نہیں سمجھا جا سکتا، اور استحکام نظریاتی ہٹ دھرمی کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔

دنیا تعاون سے منہ نہیں موڑ رہی؛ بلکہ وہ فریبِ نظر سے دور جا رہی ہے۔ ابھرنے والا نیا نظریہ سادہ ہے: نظام قانون کی حکمرانی، ذمہ داری، قابلِ پیش گوئی وعدوں اور ثقافتی و قومی شناخت کے احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔ یہ تنہائی پسندی نہیں بلکہ سیاسی بلوغت ہے۔

پرانے ماڈل کی ناکامی سب سے زیادہ تنازعات کے حل میں نمایاں ہے۔ طویل عرصے تک عالمی برادری مذاکرات، اعلانات اور کانفرنسوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے پر انحصار کرتی رہی، جن کے نتائج محض علامتی بیانات تک محدود رہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے: عمل درآمد کے بغیر معاہدے، نتائج کے بغیر سفارت کاری، اور امن کے بغیر امن عمل۔

دنیا اب اس طرزِ عمل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اسی لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر اقوامِ متحدہ کی مکمل توثیق کے ساتھ بورڈ آف پیس کا قیام ایک بامعنی قدم ہے۔ یہ محض ایک اور فورم نہیں جو طویل مباحث کے لیے تشکیل دیا گیا ہو، بلکہ ایک عملی اقدام ہے جس کا مقصد حقیقی نتائج حاصل کرنا ہے — خصوصاً غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں۔

اس اقدام کی بنیادی انفرادیت اس کی منطق میں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک حقیقی معنوں میں اختراعی طریقۂ کار پیش کیا ہے: فرسودہ سیاسی فارمولوں کو دہرانے کے بجائے ایک واضح اور براہِ راست فریم ورک پیش کیا گیا ہے — پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے امن۔ یعنی امن کو نعرہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ سمجھا گیا ہے: بنیادی ڈھانچہ، سرمایہ کاری، روزگار اور ایسا مستقبل جو دوبارہ تنازع کو غیر معقول بنا دے۔ اپنی جدت اور بلند ہمتی کے باعث یہ اقدام احترام اور عالمی توجہ کا مستحق ہے۔

قازقستان میں صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی سے وابستہ سیاسی اصولوں کے حوالے سے مثبت رجحان مختلف عوامی اور ماہرین کی سطح پر نمایاں ہے: عام فہم سوچ، روایتی اقدار کا تحفظ، قومی مفادات کا دفاع، اور جنگوں کو طول دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے کا عزم۔

یہ اصول اس لیے ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں کیونکہ یہ وہی چیزیں ہیں جن کی زیادہ تر معاشرے فطری طور پر خواہش رکھتے ہیں: سلامتی، استحکام اور وقار۔ قازقستان کی حمایت محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی ہے۔ اسی لیے ہم نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اور اسے عملی اقدامات کے ذریعے تقویت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ قازقستان کے ابراہام معاہدوں میں شامل ہونے کے فیصلے کا منطقی تسلسل ہے۔ یہ محض سفارتی اشارہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک انتخاب ہے۔ قازقستان نے ہمیشہ متوازن اور تعمیری مؤقف اپنایا ہے۔ ہمارے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، جبکہ ہم مستقل طور پر فلسطینی عوام کی حمایت اور دو ریاستی حل کو امن کی واحد پائیدار بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔ ہمارا فیصلہ قومی مفاد پر بھی مبنی ہے، جس کا مقصد اقتصادی تعاون کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنانا ہے۔ وسیع تر تناظر میں، ہمیں امید ہے کہ یہ مسلم اور یہودی دنیا کے درمیان مکالمے کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچھوٹوں گینگ کیس؛ دوران سماعت رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس امن مگر ہوشیاری کے ساتھ واشنگٹن اسٹیٹ: ایورگرین ریاست عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میں ریاستی اختیار اور انتظامی ذمہ داری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جادوئی جوش: ڈسکوری گرین پارک میں دیوہیکل ٹرافی نے ہیوسٹن کو رونق دے دی روڈ آئی لینڈ: سمندری ریاست TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی