قومی حکومت کی بازگشت!!
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اس وقت ملک میںجو سنگین نوعیت کے مسائل ہیں ان کا حل ہم ایک ایسی قومی حکومت کی صورت میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کو ممکن بنایا جا سکے۔ اگرچہ پہلے ہی تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی صورت میں موجودہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی قومی حکومت کا حصہ بنا کر ایک نئے نظام کی تشکیل پر زور دیا جا رہا ہے۔ فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ اگلے دو تین برس کے لیے اگر ہم قومی حکومت پر اتفاق کر لیں تو اس سے ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام سمیت سیکورٹی کے مسائل بہتر ہو سکتے ہیں۔ قومی حکومت کی ترجیحات میں اصلاحات کا ایجنڈا ہو اور اس کو بنیاد بنا کر نئے انتخابات سے پہلے کچھ اس قسم کا نظام ترتیب دیا جائے جو آگے جا کر ایک مضبوط سیاسی نظام کا سبب بن سکے۔ اس میں کچھ لوگ بنگلا دیش کی مثالیں بھی دیتے ہیں جہاں ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت نے انتخابات سے پہلے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس کی بنیاد پر عام انتخابات کی راہ ہموار ہو سکی۔ قومی حکومت کی تشکیل کی باتیں اس لیے بھی ہو رہی ہیں کہ کچھ فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی بندوبست مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا ہے۔ اس حکومت نے معیشت کی ترقی کے جتنے بھی بڑے دعوے کیے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک مسلسل بری حکمرانی کے تناظر میں سخت گیر اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر پاکستان نے اگلے کچھ عرصے میں ادارہ جاتی سطح پر سخت گیر اصلاحات نہ کیں تو وہ سیاسی اور معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکے گا۔ قومی حکومت سے مراد یہ ہے کہ ہم فوری طور پہ نئے انتخابات کی طرف نہیں جانا چاہتے اور نہ ہی انتخابات کو مسئلے کا حل سمجھ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم قومی حکومت کی تشکیل کی طرف بڑھتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہمیں داخلی مسائل کا کوئی حل مل سکے گا؟ کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں کا مل کر کام کرنا پاکستان کی سیاست میں کوئی آسان کام نہیں ہے۔ دوسرا اگر اقتدار کی بندر بانٹ میں ان تمام جماعتوں کو اقتدار کا حصہ بنا دیا جائے گا تو یہ کام کم اور ذاتی مفادات کے حصول پر زیادہ توجہ دیں گی۔ جیسے پیپلز پارٹی اس وقت براہ راست حکومت کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کی وہ بھاری قیمت حکومت کی حمایت کی صورت میں وصول کر رہی ہے۔ قومی حکومت سے مراد یہ ہے کہ ہم اپوزیشن کے رول کو بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب کو حکومت کا حصہ بنا دیا جائے تو اس سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ایک طرف قومی حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو اور دوسری طرف اس حکومت میں ہم پروفیشنل یا ٹیکنوکریٹس کو شامل کر کے ایک اور نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں جو مزید ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آج ریاست کو جو مسائل درپیش ہیں وہ ان ہی بڑی جماعتوں کی وجہ سے ہیں۔ یہ تمام بڑی جماعتیں نہ تو اصلاحات کرنا چاہتی ہیں اور نہ ہی خود کو جواب دہ بنانا چاہتی ہیں۔ بلکہ اقتدار میں شامل ان جماعتوں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے بجائے ذاتی مفادات کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ایک ایسی قومی حکومت جس کو یقینی طور پر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت تو حاصل ہوگی لیکن یہ عوامی حمایت سے محروم ہوگی۔ پہلے تو سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں قومی مسائل کے حل میں کوئی بڑا کردار کیوں ادا نہیں کرسکیں۔ ان ہی بڑی سیاسی جماعتوں نے پچھلے کچھ برسوں میں ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کا بیڑا غرق کیا ہے اور الیکشن کی شفافیت پر بھی بنیادی نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس وقت انسانی حقوق کی پامالی سمیت اظہار رائے کی آزادی اور عدلیہ کی خود مختاری پر بہت سے لوگ سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کیا یہ سب مسائل قومی حکومت کی موجودگی میں حل ہو سکیں گے اور کیا یہ قومی حکومت پاکستان کے معاشی مسائل کا کوئی مناسب حال پیش کر سکے گی؟ ہم ٹیکنوکریٹس کی بات تو بہت کرتے ہیں لیکن یہی ٹیکنوکریٹس عالمی مالیاتی اداروں کے تابعدار بن کر پاکستان پر قرضوں کا بوجھ اور زیادہ ڈال دیتے ہیں جس کی بھاری قیمت عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ایک نارمل ریاست کے طور پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دنیا کی جدید ریاستیں جس طرح سے اپنے نظام کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں ہم اس سے گریز کیوں کرتے ہیں۔ جب تک ہم اس ملک میں حکمرانی کے نظام کو حق کے حکمرانی کے ساتھ نہیں جوڑیں گے یعنی عوام کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ لوگ سیاست سے اس لیے بھی بیزار ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ پھر اس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ جو قومی حکومت بنے گی وہ اصلاحات پر توجہ دے گی۔ اسی طرح قومی حکومت کی تشکیل کون کرے گا اور اس کا مینڈیٹ کس کو حاصل ہوگا یہ خود ایسے سوالات ہیں جن کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں سیاسی تقسیم کی جڑیں کافی گہری ہیں اور سیاسی محاذ آرائی نے قومی سیاست کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ لوگ تنقید کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ تنقید عملی طور پر سیاسی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جو کچھ عمران خان کے ساتھ جیل میں ہوا ہے اور جس طرح سے ان کے علاج کے حوالے سے حکومت نے کوتاہی یا مجرمانہ غفلت کی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ ہماری سیاست میں ایک دوسرے کی قبولیت کے امکانات بہت کم ہیں۔کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قومی حکومت میں شمولیت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف سیاست کرتی ہے وہ کیسے اس قومی حکومت کا حصہ بننے گی۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت میں قومی حکومت کے حامی نہیں ہیں اور قومی حکومت بنانے والے عمران خان کو نظر انداز کر کے پی ٹی آئی کے ایک بڑے دھڑے کو قومی حکومت کا حصہ بنا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یعنی قومی حکومت بنے گی مگر یہ مائنس عمران خان اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ اس عمل سے پہلے سے موجود سیاسی ٹکراؤ میں اضافہ بھی ہوگا اور قومی حکومت ابتدا ہی میں متنازع ہوگی۔یہ ایک خوش فہمی ہے اور اس خوش فہمی کی بنیاد پر بنایا گیا کوئی بھی نظام تشکیل دے دیا جائے اپنے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔ اس لیے ہمیں پاکستان میں سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچر کے کھیل سے گریز کرنا ہوگا۔ ماضی میں اس طرز کے کھیل نے پاکستان کو کمزور کیا ہے۔ ہمیں ایک نارمل طریقے سے سیاست اور جمہوریت کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا اور ایسی جمہوریت جس میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو اور لوگوں کی بنیادی آزادیوں کو تسلیم کیا جائے۔ انتخابات منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر ہوں اور لوگوں کے ووٹ کو تسلیم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں قومی حکومت کی نہیں ہیں اور حکومت کا حصہ حکمرانی کے تمام سیاسی کا حصہ بنا حکومت میں پی ٹی ا ئی کی بنیاد دیا جائے کی تشکیل ہیں کہ ا ہے کہ ہم یہ ہے کہ رہے ہیں نہیں ہے ملک میں دیا جا اور اس ہے اور کے لیے
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)