انٹارکٹیکا میں خون کے رنگ کی آبشار، سائنسدانوں نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
انٹارکٹیکا کے مشرقی حصے میں ٹیلر گلیشئر سے پھوٹتی ہوئی ایک روشن سرخ رنگت والی آبشار، جسے بلڈ فالز کہا جاتا ہے، سائنسدانوں کے لیے صدیوں سے ایک پراسرار قدرتی مظہر رہی ہے۔ یہ آبشار ان زمینوں میں واقع ہے جو زمین کی سب سے سرد اور خشک جگہوں میں شمار ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برف کے نیچے چھپی دنیا آشکار، انٹارکٹیکا کی زمین کے خدوخال سامنے آگئے
قومی جغرافیہ کی محقق ایرِن سی پِٹ اور ان کی ٹیم نے تحقیق کے دوران دریافت کیا کہ اس آبشار کا خون نما سرخ رنگ حیاتیاتی مواد کی وجہ سے نہیں بلکہ برف کے نیچے چھپے ہوئے انتہائی نمکین، لوہے سے بھرے پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جب یہ لوہے سے بھرپور پانی سطح پر آتا ہے اور آکسیجن کے ساتھ رابطہ کرتا ہے تو آئرن آکسائڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے پانی سرخ زنگ زدہ رنگ اختیار کر لیتا ہے اور بلڈ فالز کو اس کی منفرد خون جیسی ظاہری شکل ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں نوکری کے لیے غیر معمولی معاوضے کی پیشکش، نوجوان کو فیصلہ کرنے میں مشکل درپیش
ماپنے کے عمل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے جیسے پانی آبشار کے قریب آتا ہے، اس میں لوہے کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو پانی کے درجہ حرارت اور نمک کی مقدار کے تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔
ٹیلر گلیشئر کو دنیا کا سب سے سرد گلیشئر مانا جاتا ہے، جہاں پانی مستقل بہاؤ میں رہتا ہے۔ یہاں برف، نمک، لوہا اور حرارت کا پیچیدہ امتزاج چھپا ہوا ہے، جو ایک ایسا متحرک نظام پیدا کرتا ہے جو بظاہر مردہ برفانی صحراء میں زندگی کی جھلک دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کا سونا اُگلتا آتش فشاں، حقیقت یا فسانہ؟
یہ پراسرار اور دلکش منظر ظاہر کرتا ہے کہ قدرت انتہائی سخت ماحول میں بھی کس قدر پیچیدہ اور متحرک ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یہ بھی
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘