شوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے اقبال محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے، اسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت نے اجلاس کے دوران ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے ایم پی اے کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے تاہم بعد میں دونوں اراکین کے درمیان صلح صفائی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت صورتحال بڑی ڈرامائی اور حیران کن ہوگئی جب ایم کیو ایم کے ایک رکن شوکت راجپوت نے پوائنٹ آ ف آرڈر پر کھڑے ہوکر شکایت کی کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دھمکی انہی کی جماعت کے ایم پی اے شارق جمال نے دی اور کہا کہ آپ باہر نکلیں آپکو دیکھتا ہوں۔ شوکت راجپوت نے استدعا کی کہ میری درخواست ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کہا جائے کہ میرا مقدمہ درج کیا جائے اور میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مجھے تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دوسری صورت میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ جس کے بعد میں دوبارہ وکالت شروع کروں گا اور پھر دیکھتا ہوں کون دھمکی دے گا۔ اس پر ایوان میں بیٹھے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات کرنا مناسب نہیں ہے، اسپیکر اسمبلی ہاﺅس کے کسٹوڈین ہے لہذا آپ رولنگ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایس ایچ او کو بھی کال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا، اس قسم کی شکایت بہت شرمناک بات ہے۔

اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی سے کہا کہ آپ اجلاس ختم ہونے سے پہلے یہ معاملہ حل کریں بصورت دیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا۔ سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ان کی پارٹی گروپنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ اگر کسی ممبر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد بھی نہ بچا سکیں تو کیا ہوگا، ہمیں ممبران کی حفاظت کرنا ہوگی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں فاضل ممبر کی سیکیورٹی کا بندوبست کرتا ہوں، اگر رانا شوکت کی جان یا مال کو کوئی بھی نقصان ہوا تو جن کا انہوں نے نام لیا میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔ ضیا لنجار نے کہا کہ شوکت راجپوت اگر اپنا بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔

قبل ازیں شوکت راجپوت نے ایوان میں بتایا کہ پیر والے دن ایم کیو ایم کے ایم این اے اقبالُ محسود مسلح افراد کے ساتھ  ان دفتر میں آئے اور تالے توڑے اور آج ہاﺅس میں انہیں پی ایس پی گروپ کے ایم پی اے شارق جمال نے دھمکی دی۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اسپیکر سے کہا کہ میری درخواست ہے کہ بزنس چلا لیں، اس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ پہلے قوانین پڑھیں پھر بات کریں۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ معاملہ حل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میری درخواست ہے کہ دھمکی دینے والے رکن کی ایک یا دو گھنٹے کے لیے ممبر شپ معطل کریں۔

شوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے اقبال محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے، اسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں۔ ایوان میں شور شرابہ کرنے اور اپنے ارکان کو جواب دینے پر اکسانے کی ترغیب دینے پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی اور ان کے سندھ اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی۔ اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ انجنیئر عثمان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ معافی نامہ نہیں جمع کروائیں گے۔

اسی اثنا ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی سندھ اسمبلی پہنچ گئے تھے۔ آخری تاہم اطلاعات کے مطابق بعد میں ان دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہوگئی اور پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے گروپوں میں ہونے والے تنازعے کا تصفیہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے چیمبر میں ہوا اور دونوں اراکین نے ایک دوسرے سے صلح صفائی کرلی۔ ذرائع کے مطابق کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رانا شوکت، شارق جمال کو معاف کردیں گے جبکہ انجینئر عثمان کی معطلی کو بھی کل ختم کردیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی ایوان میں اسمبلی کے ایم پی اے دھمکی دی کے مطابق بتایا کہ کے ایم ایس پی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن