ملک میں اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ملک میں اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریبا 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اور اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ طلب کردہ متعدد تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں جن میں صوبہ بلوچستان سے متعلق ایچ آئی وی کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریبا 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، ارکان نے نشان دہی کی کہ سندھ اور پنجاب سے تقریبا 3 لاکھ 50 ہزار ایچ آئی وی مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جو تقریبا 75 فیصد بنتے ہیں۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وضاحت کی کہ اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 19-208 میں 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024 کے پہلے نو ماہ میں 9 ہزار 700 کیسز سامنے آئے، کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی مثبت قرار دیے گئے 31 مریضوں کے علاج کی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مزید برآں ضلع سرگودھا (کوٹ مومن)میں 19-2018 کے دوران رپورٹ ہونے والے 5 ہزار کیسز میں سے 669 کیسز کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019 میں 24 ہزار مریض علاج کے لیے رجسٹر ہوئے، کمیٹی ارکان نے اعتراض کیا کہ طلب کردہ اعداد و شمار اور اسباب سمیت متعدد پہلو وزارت کی رپورٹ میں مناسب طور پر شامل نہیں کیے گئے۔وزیر صحت مصطفی کمال نے وضاحت کی کہ وزارت کی جانب سے ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 24 سے بڑھا کر 127 کرنے کے نتیجے میں زیادہ افراد کی اسکریننگ ہوئی، جس سے کیسز کی نشان دہی میں اضافہ ہوا۔وزارت نے آگاہ کیا کہ ملک بھر میں اسکریننگ اور آگاہی اقدامات جاری ہیں جبکہ پروگرام سے متعلق امور، فنڈز اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلات آئندہ بریفنگ میں فراہم کی جائیں گی۔چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل مجموعی پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے، این جی اوز کو دی جانے والی فنڈنگ، پروگرام پر عمل درآمد بالخصوص ایچ آئی وی سے متعلق امور اور منصوبہ جاتی آپریشنل بریفنگ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔
وزیر صحت نے کہا مفروضے کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریض ہیں، گلوبل فنڈ 25 فیصد فنڈ گورنمنٹ کو 75 فیصد فنڈ این جی اوز کو دیا جا رہا ہے، ابھی آپ کو کیسز اور زیادہ ملیں گے، 90 فیصد لوگ میڈیکل وجوہات پر ڈی پورٹ ہو رہے ہیں، ڈی پورٹ ہونے والوں کی اسکریننگ ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ایک ہی جگہ پر بچوں میں مرض پایا گیا جہاں غلط سرنجز لگائی گئیں،کراچی بنارس کے علاقے میں 70 مریضوں میں تشخیص ہوئی اور ڈی جی ہیلتھ کو کراچی بھیجا۔پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس کے حوالے سے وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے اور انہوں نے ہار نہیں مانی اور تجویز دی کہ اس معاملے کو آئندہ ان کیمرہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔وزیر صحت نے کہا کہ نرسنگ کونسل کا اتنا بڑا مافیا ہے، ملک کا تماشا ہے،کتنا بڑا اسٹیک ہے معتبر نام انگلی پکڑ کر چلتے ہیں اور عدالت نے بغیر سنے حکم امتناع دیا ہے، اراکین کمیٹی نے کہا کہ ایکٹ میں تجویز دینا چاہتے ہیں۔رکن کمیٹی شازیہ سومرو نے ذرائع کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ کونسل میں گلگت بلتستان اور بلوچستان سے بعض ارکان کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور مطلوبہ اہلیت موجود نہیں، جس پر کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کی ہدایت کر دی۔
وزارت کے بجٹ کے حوالے سے مصطفی کمال نے کہا کہ مجھ سے قبل 21 ارب روپے بجٹ تھا، جب مجھے وزارت ملی تو ہمیں صرف 14 ارب روپے بجٹ میں دیے گئے،کوئی نئی اسکیم گزشتہ سال پاس نہیں کی گئی، تین ہفتے قبل تین ارب روپے کی اسکیمیں مںظور کی گئی ہیں۔ اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور نگرانی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ارکان نے کلینیکل نگرانی اور نفاذ کے اقدامات سے متعلق پیش رفت، رپورٹنگ میں تاخیر اور نامکمل معلومات پر تشویش کا اظہار کیا، وزارت نے بتایا کہ بعض امور مزید جائزہ اور وقت کے متقاضی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، خواجہ آصف پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، خواجہ آصف مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2مارچ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیرئیر کالج کی سوچ اور نظریہ محنت اور ایمانداری ہے، جاوید انتظار بانی پی ٹی آئی کی 2024میں ڈیل فائنل ہو چکی تھی، اختیار ولی خان کا دعویCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال وزیر صحت مصطفی کمال نے نے کہا کہ کمیٹی نے نہیں کی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز