ملک میں غربت کی بنیادی وجہ 2018 سے 2022 تک کی معاشی بدحالی ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں غربت کی بنیادی وجہ 2018 سے 2022 کے دوران پیش آنے والی معاشی بدحالی ہے، ملک میں غربت کی شرح اب 28.
9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور گزشتہ چند برسوں میں معاشی عدم استحکام نے غربت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ غربت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور اقتصادی عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ 2018 سے 2022 تک جاری معاشی بحران ہے،2013 سے 2019 کے دوران غربت میں کمی کا سلسلہ جاری رہا، مگر بعد کے برسوں میں یہ رجحان بدل گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی برآمدات کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ سات سال میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، غربت کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے۔
احسن اقبال نے صوبوں کے وسائل کی تقسیم پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ صوبوں کے پاس قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت وسائل بڑھائے گئے ہیں، اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ پسماندہ ترین اضلاع کی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، یہ اقدامات نہ صرف غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ معاشرتی و اقتصادی عدم مساوات کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: احسن اقبال
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔