آسٹریلیا کی عمان کے خلاف بڑی فتح، ٹی20 ورلڈ کپ مہم کا اختتام کامیاب انداز میں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینڈی :آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے ایک اہم گروپ میچ میں آسٹریلیا نیشنل کرکٹ ٹیم نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمان کرکٹ ٹیم کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔ یہ مقابلہ سری لنکا کے شہر کینڈی میں واقع پالی کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں آسٹریلوی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں برتری دکھائی۔
میچ میں عمان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم آسٹریلوی باؤلرز نے ابتدا ہی سے دباؤ برقرار رکھا۔ عمانی بیٹنگ لائن مستقل مزاحمت نہ دکھا سکی اور پوری ٹیم 104 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ عمان کی جانب سے وسیم علی نمایاں رہے جنہوں نے 32 رنز اسکور کیے، مگر انہیں دوسرے اینڈ سے خاطر خواہ تعاون نہ مل سکا۔
آسٹریلیا کی جانب سے لیگ اسپنر ایڈم زمپا نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور عمان کی اننگز کو محدود کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے علاوہ دیگر باؤلرز نے بھی نظم و ضبط سے لائن اور لینتھ برقرار رکھی، جس سے عمان بڑا اسکور بنانے میں ناکام رہی۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے جارحانہ آغاز کیا۔ کپتان مچل مارش نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 64 رنز بنائے جبکہ ٹریوس ہیڈ نے 32 رنز کی برق رفتار اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح کے قریب پہنچایا۔ آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف محض 9.
اگرچہ یہ کامیابی آسٹریلیا کو ٹورنامنٹ میں آگے نہ لے جا سکی کیونکہ وہ ابتدائی میچوں میں شکست کے باعث پہلے ہی اگلے مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو چکی تھی، ٹیم نے اپنی مہم کا اختتام مثبت نوٹ پر کیا۔ دوسری جانب عمان کے لیے یہ میچ سیکھنے کا موقع ثابت ہوا کیونکہ مضبوط حریف کے خلاف کھیلنے سے انہیں بین الاقوامی سطح پر تجربہ حاصل ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔