غزہ امن بورڈ اجلاس، ایران کشیدگی اور خطہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکیج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن، استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔
غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ آیندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔
واشنگٹن میں منعقد ہونے والا غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس ایک ایسے عہد میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی، طاقت کے توازن اور بیانیوں کی جنگ کے بیچ کھڑی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس کو نہ صرف ایک سفارتی سنگ میل کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی عالمی قیادت کے بیانیے کا مرکزی ستون بنانے کی کوشش بھی کی۔ دنیا بھر سے آئے سفارتی وفود، کیمروں کی چمک دمک، اور اربوں ڈالر کے امدادی وعدے ایک ایسے منظرنامے کی تشکیل کر رہے تھے جس میں امید اور خدشہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک اجلاس ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں کوئی نیا باب کھولے گا یا پھر یہ بھی ان بے شمار سفارتی تقریبات کی طرح ہوگا جو الفاظ اور اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے مالی پیکیجز کا اعلان کیا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ متعدد عالمی تنازعات رکوا چکے ہیں، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ خطہ ایک ہم آہنگ مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ان کا لہجہ پر اعتماد تھا، بلکہ کسی حد تک جارحانہ اعتماد سے بھرپور۔ انھوں نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جو محض مذاکرات نہیں کرتا بلکہ نتائج لاتا ہے۔
تاہم عالمی سیاست میں دعوؤں اور حقائق کے درمیان فاصلہ اکثر بہت وسیع ہوتا ہے۔ امن کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں، مگر امن صرف پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ غزہ کی سرزمین پر دہائیوں سے جاری تنازع، انسانی المیے، سیاسی تقسیم اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت ایک ایسی پیچیدہ گتھی ہے جسے کھولنے کے لیے محض سرمایہ کاری کافی نہیں۔
غزہ کی صورتحال بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کی جڑیں تاریخی ناانصافیوں، علاقائی رقابتوں اور بین الاقوامی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ وہاں کی آبادی کئی دہائیوں سے محاصرے، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل عسکری کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے کا اعلان بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اگر سیاسی نمائندگی، خود مختاری اور مقامی قیادت کی شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے تو یہ وسائل وقتی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا استحکام نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی منصوبے شروع ہوئے جنہوں نے ابتدا میں امید پیدا کی مگر چند برسوں بعد وہی مسائل دوبارہ سر اٹھانے لگے۔
صدر ٹرمپ نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا اور امید ظاہر کی کہ ایک معاہدے کے تحت عسکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی مزاحمتی یا سیاسی گروہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب تک تنازع کے تمام فریقوں کو کسی نہ کسی شکل میں سیاسی عمل میں شامل نہ کیا جائے، امن کا ڈھانچہ کمزور رہتا ہے۔ غزہ کے مسئلے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، اگر امن بورڈ واقعی مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے شمولیت اور مکالمے کی راہ اپنانا ہوگی۔
اس پورے منظر نامے کا دوسرا اہم پہلو ایران سے متعلق امریکی پالیسی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی تنبیہات، ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک دہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، دوسری طرف بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ یہ بیانیہ خطے میں طاقت کے توازن کی حساسیت کو ظاہرکرتا ہے، اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، خلیجی ریاستیں اور عالمی توانائی منڈیاں اس سے متاثر ہوں گی۔
آبنائے ہرمز میں کسی بھی عسکری تناؤ کا مطلب عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور معیشتوں میں ہلچل ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجزکا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ایک اور بڑی جنگ اسے مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں عمومی طور پر کشیدگی میں اضافے کی حامی نہیں دکھائی دیتیں۔ وہ ایک ایسے ماحول کی خواہاں ہیں جس میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری جاری رہ سکے، اگر بڑی طاقتیں اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات کو فوقیت دیتی رہیں تو علاقائی امن کی خواہش پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
روس کی جانب سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف انتباہ بھی اس پیچیدہ بساط کا حصہ ہے۔ عالمی سیاست اب دو یا تین واضح بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ہر طاقت اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرین کے بعد روس اور مغرب کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اگر ایران کے معاملے پر بھی براہ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی بڑھتی ہے تو عالمی نظام مزید قطبیت کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال سرد جنگ کے کسی نئے ورژن کی یاد دلاتی ہے، جہاں علاقائی تنازعات بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی مقابلے کا میدان بن جاتے تھے۔
ایران کے ساتھ طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور علاقائی جغرافیہ پاکستان کو ایک حساس پوزیشن میں رکھتے ہیں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو انتہائی محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ کسی بلاک سیاست کا حصہ بنے بغیر توازن قائم رکھ سکے۔ٹرمپ کا انداز سیاست طاقت اور معاہدے کے امتزاج پر مبنی ہے۔ وہ ایک طرف سخت بیانات دیتے ہیں، دوسری طرف مالی امداد اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بعض اوقات فوری نتائج دے سکتی ہے، مگر طویل المدتی امن کے لیے ایک مستقل اور قابل پیش گوئی پالیسی ضروری ہوتی ہے، اگر ہر چند برس بعد پالیسی میں بنیادی تبدیلی آ جائے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں تسلسل اور سنجیدگی بنیادی تقاضے ہیں۔
موجودہ عالمی ماحول میں اطلاعات کی رفتار اور بیانیوں کی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر بیان، ہر دھمکی اور ہر اعلان فوری طور پر عالمی میڈیا کا حصہ بن جاتا ہے اور مالی منڈیوں سے لے کر عوامی رائے تک سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ذمے دارانہ سفارت کاری پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جذباتی یا جلد بازی میں دیے گئے بیانات کبھی کبھار غیر متوقع نتائج پیدا کر دیتے ہیں۔
اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ تمام پیش رفت عالمی نظام کے ایک عبوری مرحلے کی علامت ہے۔ امریکا اپنی عالمی قیادت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، روس اور چین متبادل اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے نئی صف بندیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ اس پس منظر میں غزہ بورڈ آف پیس ایک علامتی اور عملی دونوں حیثیت رکھتا ہے۔
یہ یا تو ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست کا ایک اور باب۔ امن کبھی یکطرفہ فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ ذمے داری کا تقاضا کرتا ہے، اگر عالمی قیادت واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اعتماد سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ غزہ کے عوام، ایران کے شہری اور پورے خطے کے باشندے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی سکون چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کے اس اجلاس نے ایک دروازہ ضرور کھولا ہے، مگر اس دروازے سے گزر کر منزل تک پہنچنے کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور وسیع تر شمولیت کی ضرورت ہوگی۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ یہ پیش رفت تاریخ میں ایک مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی یا ایک اور ادھوری کوشش کے طور پر۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جانب سے کے درمیان کے طور پر ایک ایسے ایران کے طاقت کے سکتا ہے ہوتا ہے ہے کہ ا غزہ کے کے لیے
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔