Express News:
2026-07-24@01:08:55 GMT

غزہ امن بورڈ اجلاس، ایران کشیدگی اور خطہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکیج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن، استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔

غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ آیندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔

واشنگٹن میں منعقد ہونے والا غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس ایک ایسے عہد میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی، طاقت کے توازن اور بیانیوں کی جنگ کے بیچ کھڑی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس کو نہ صرف ایک سفارتی سنگ میل کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی عالمی قیادت کے بیانیے کا مرکزی ستون بنانے کی کوشش بھی کی۔ دنیا بھر سے آئے سفارتی وفود، کیمروں کی چمک دمک، اور اربوں ڈالر کے امدادی وعدے ایک ایسے منظرنامے کی تشکیل کر رہے تھے جس میں امید اور خدشہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک اجلاس ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں کوئی نیا باب کھولے گا یا پھر یہ بھی ان بے شمار سفارتی تقریبات کی طرح ہوگا جو الفاظ اور اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے مالی پیکیجز کا اعلان کیا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ متعدد عالمی تنازعات رکوا چکے ہیں، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ خطہ ایک ہم آہنگ مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ان کا لہجہ پر اعتماد تھا، بلکہ کسی حد تک جارحانہ اعتماد سے بھرپور۔ انھوں نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جو محض مذاکرات نہیں کرتا بلکہ نتائج لاتا ہے۔

تاہم عالمی سیاست میں دعوؤں اور حقائق کے درمیان فاصلہ اکثر بہت وسیع ہوتا ہے۔ امن کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں، مگر امن صرف پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ غزہ کی سرزمین پر دہائیوں سے جاری تنازع، انسانی المیے، سیاسی تقسیم اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت ایک ایسی پیچیدہ گتھی ہے جسے کھولنے کے لیے محض سرمایہ کاری کافی نہیں۔

غزہ کی صورتحال بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کی جڑیں تاریخی ناانصافیوں، علاقائی رقابتوں اور بین الاقوامی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ وہاں کی آبادی کئی دہائیوں سے محاصرے، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل عسکری کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے کا اعلان بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اگر سیاسی نمائندگی، خود مختاری اور مقامی قیادت کی شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے تو یہ وسائل وقتی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا استحکام نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی منصوبے شروع ہوئے جنہوں نے ابتدا میں امید پیدا کی مگر چند برسوں بعد وہی مسائل دوبارہ سر اٹھانے لگے۔

صدر ٹرمپ نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا اور امید ظاہر کی کہ ایک معاہدے کے تحت عسکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی مزاحمتی یا سیاسی گروہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب تک تنازع کے تمام فریقوں کو کسی نہ کسی شکل میں سیاسی عمل میں شامل نہ کیا جائے، امن کا ڈھانچہ کمزور رہتا ہے۔ غزہ کے مسئلے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، اگر امن بورڈ واقعی مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے شمولیت اور مکالمے کی راہ اپنانا ہوگی۔

 اس پورے منظر نامے کا دوسرا اہم پہلو ایران سے متعلق امریکی پالیسی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی تنبیہات، ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک دہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، دوسری طرف بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ یہ بیانیہ خطے میں طاقت کے توازن کی حساسیت کو ظاہرکرتا ہے، اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، خلیجی ریاستیں اور عالمی توانائی منڈیاں اس سے متاثر ہوں گی۔

آبنائے ہرمز میں کسی بھی عسکری تناؤ کا مطلب عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور معیشتوں میں ہلچل ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجزکا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ایک اور بڑی جنگ اسے مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں عمومی طور پر کشیدگی میں اضافے کی حامی نہیں دکھائی دیتیں۔ وہ ایک ایسے ماحول کی خواہاں ہیں جس میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری جاری رہ سکے، اگر بڑی طاقتیں اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات کو فوقیت دیتی رہیں تو علاقائی امن کی خواہش پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

روس کی جانب سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف انتباہ بھی اس پیچیدہ بساط کا حصہ ہے۔ عالمی سیاست اب دو یا تین واضح بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ہر طاقت اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرین کے بعد روس اور مغرب کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اگر ایران کے معاملے پر بھی براہ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی بڑھتی ہے تو عالمی نظام مزید قطبیت کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال سرد جنگ کے کسی نئے ورژن کی یاد دلاتی ہے، جہاں علاقائی تنازعات بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی مقابلے کا میدان بن جاتے تھے۔

ایران کے ساتھ طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور علاقائی جغرافیہ پاکستان کو ایک حساس پوزیشن میں رکھتے ہیں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو انتہائی محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ کسی بلاک سیاست کا حصہ بنے بغیر توازن قائم رکھ سکے۔ٹرمپ کا انداز سیاست طاقت اور معاہدے کے امتزاج پر مبنی ہے۔ وہ ایک طرف سخت بیانات دیتے ہیں، دوسری طرف مالی امداد اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بعض اوقات فوری نتائج دے سکتی ہے، مگر طویل المدتی امن کے لیے ایک مستقل اور قابل پیش گوئی پالیسی ضروری ہوتی ہے، اگر ہر چند برس بعد پالیسی میں بنیادی تبدیلی آ جائے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں تسلسل اور سنجیدگی بنیادی تقاضے ہیں۔

موجودہ عالمی ماحول میں اطلاعات کی رفتار اور بیانیوں کی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر بیان، ہر دھمکی اور ہر اعلان فوری طور پر عالمی میڈیا کا حصہ بن جاتا ہے اور مالی منڈیوں سے لے کر عوامی رائے تک سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ذمے دارانہ سفارت کاری پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جذباتی یا جلد بازی میں دیے گئے بیانات کبھی کبھار غیر متوقع نتائج پیدا کر دیتے ہیں۔

اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ تمام پیش رفت عالمی نظام کے ایک عبوری مرحلے کی علامت ہے۔ امریکا اپنی عالمی قیادت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، روس اور چین متبادل اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے نئی صف بندیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ اس پس منظر میں غزہ بورڈ آف پیس ایک علامتی اور عملی دونوں حیثیت رکھتا ہے۔

یہ یا تو ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست کا ایک اور باب۔ امن کبھی یکطرفہ فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ ذمے داری کا تقاضا کرتا ہے، اگر عالمی قیادت واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اعتماد سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ غزہ کے عوام، ایران کے شہری اور پورے خطے کے باشندے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی سکون چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کے اس اجلاس نے ایک دروازہ ضرور کھولا ہے، مگر اس دروازے سے گزر کر منزل تک پہنچنے کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور وسیع تر شمولیت کی ضرورت ہوگی۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ یہ پیش رفت تاریخ میں ایک مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی یا ایک اور ادھوری کوشش کے طور پر۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی جانب سے کے درمیان کے طور پر ایک ایسے ایران کے طاقت کے سکتا ہے ہوتا ہے ہے کہ ا غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی