کراچی؛ ٹیپو سلطان بلوچ پاڑہ میں بھائیوں کے درمیان فائرنگ، ایک بھائی جاں بحق دوسرا زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
کراچی:
ٹیپو سلطان کے علاقے بلوچ پاڑہ کے قریب گھر میں فائرنگ کے واقعے میں ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، بلدیہ میں گھر کے اندر فائرنگ سے بھی ایک شخص زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچ کالونی سٹی اسکول کے قریب گھر کے اندر فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا ، مقتول کی لاش اور زخمی کو جناح اسپتال لیجایا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 45 بہاؤ الدین کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی بھائی 43 سالہ محی الدین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیںراولپنڈی میں گھر کے اندر فائرنگ سے شوہر دو بیویوں سمیت قتل
کراچی؛ ڈرگ روڈ کینٹ بازار میں فائرنگ، پولیس اہلکار زخمی
ایس ایچ او ٹیپو سلطان اظہر خان نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ گھر میں بھائیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں پیش آیا ہے جس میں جلال الدین نامی بھائی نے فائرنگ کی تھی جو موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس واقعے کی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا بلدیہ حب ریور روڈ روٹ اے 25 اسٹاپ کے قریب گھر میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے ایدھی کے رضا کاروں نے طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مضروب کی شناخت 26 سالہ بلال ولد علی شیر کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ گھر میں اسلحہ صاف کرتے ہوئے اتفاقیہ گولی چلنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی ہوگیا فائرنگ سے گھر میں
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔