Jasarat News:
2026-06-02@20:45:00 GMT

اقامت دین کا موسم

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیسے ممکن ہے کہ ہم فرض ترک کردیں اور صرف نوافل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرسکیں؟؟ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا مہمان ہمارے درمیان ہے۔ قرآن کا مہینہ، روزے کا مہینہ، جودو سخا کا مہینہ، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ۔ وہ لوگ جو اس مہینے اپنا دامن رحمت الٰہی کے خزانوں سے بھر لیتے ہیں، جنہیں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عافیت، سہولت اور آسانی عطا فرمائی ہے، رمضان میں ان کے معمولات بدل جاتے ہیں۔ وہ رمضان کا شایان شان استقبال کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں رمضان کے ایک ایک لمحے سے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی قربت کشید کرسکیں۔ وہ راتوں کو بارگاہ خداوندی میں کھڑے رہتے ہیں اور دن میں روزے رکھتے ہیں۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کو عبادت سے قیمتی بنانے، مسجدوں کو مسکن اور سجدوں کو معمول بنا لینے میں ایک بات فراموش کردی جاتی ہے وہ یہ کہ رمضان غلبہ دین اور اقامت دین کی جدوجہد کا مہینہ بھی ہے۔ رمضان اسلامی فتوحات کا مہینہ ہے۔ سیدنا حمزہؓ کی قیادت میں پہلا سریہ رمضان 1 ہجری مارچ 623ء کے مہینے میں ہوا۔ دوہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوتے ہیں اور دو ہجری میں ہی غزوہ بدر 17 رمضان کو لڑی گئی۔ غزوہ احد شوال کے مہینے میں لڑی گئی لیکن اس کی تیاری ہوئی رمضان کے مہینے میں۔ 14 فٹ گہری اور 28 فٹ چوڑی اور 5 کلو میٹر طویل خندق جو غزوہ احزاب کے وقت کھودی گئی تھی وہ بھی رمضان کا مہینہ تھا۔ بازنطینی عیسائیوں کے خلاف غزوہ تبوک جس میں تیس ہزار صحابہ نے شرکت کی تھی وہ بھی رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ مکہ فتح ہوا رمضان کے مہینے میں۔ سوچیے رمضان کا مہینہ ہے، مدینہ مقام ہے جس میں ایک رکعت کا ثواب مسجد نبوی میں ہزار گنا بڑھ جاتا ہے لیکن آپؐ اور صحابہ کرامؓ اس ثواب کو چھوڑ کرغزوات میں، غلبہ دین کی جدوجہد میں شرکت فرمارہے ہیںکیونکہ وہ فرض ہے۔ بعد کے ادوار میں بھی مسلمانوں کا یہی شعار رہا۔ خلیفہ معتصم باللہ کی قیادت میں روم کا سب سے بڑا اور ناقابل تسخیر قلعہ عموریہ بھی رمضان میں فتح ہوا تھا۔ راجا داھر کو شکست بھی 7 رمضان کو دی گئی تھی۔ نورالدین زنگی نے صلیبیوں کو شکست دے کر بیت المقدس کے حصول کی راہ بھی رمضان کے مہینے نکالی تھی۔ اندلس رمضان کے مہینہ میں فتح ہوا۔ جنوبی فرانس رمضان کے مہینے میں 103 ہجری میں فتح ہوا۔ یہ رمضان کا مہینہ ہی تھا جس میں منگولوں کو عین جالوت کے مقام پر شکست دی گئی۔

مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنے خطبات جمعہ میں ایک حدیث بیان فرمائی ہے۔ سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے بیان فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے جبرئیل ؑ کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو! جبرائیل نے عرض کیا خداوندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیوں کہ کبھی ایک ساعت کے لیے بھی میری وجہ سے اس بندہ کا چہرہ متغیر نہیں ہوا۔ (شعب الایمان للبیہقی) اس حدیث میں رسول اللہؐ نے پہلے کسی زمانہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ کوئی بستی تھی جس کے باشندے عام طور سے سخت فاسق، فاجر تھے اور ایسی بد اعمالیاں کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کا باعث بن جاتی ہیں لیکن اس بستی میں ایک ایسا بندہ بھی تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا پورا فرماں بردار تھا، ہمہ وقت عبادت میں مصروف۔ اس سے کبھی معصیت سرزد نہیں ہوئی تھی مگر دوسری طرف اس کا حال یہ تھا کہ بستی والوں کے فسق و فجور اور ان کی بداعمالیوں پر کبھی اس کو غصہ بھی نہیں آتا تھا اور اس کے چہرے پر شکن بھی نہیں پڑتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس درجہ کا جرم تھا کہ جبرائیل ؑ کو حکم ہوا کہ بستی کے فاسق فاجر باشندوں کے ساتھ اس بندے پر بھی بستی کو الٹ دو۔

اسلام ایک توازن کا نام ہے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے دین کے نفاذ اور غلبے کی جدوجہد۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رضا اور قرب کے لیے دونوں میدانوں میں عمل۔ عبادات کے ساتھ ساتھ غلبہ دین کی جدوجہد میں بھی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کو مومن کی شرکت درکار ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا قول ہے: ’’ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ مذہبی آدمی ہو، جائو مسجدوں میں عبادت اور وعظ وتدریس میں مصروف رہو لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا مذہب جوگیوں اور سنیاسیوں کا مذہب نہیں ہے بلکہ ہمارا دین پوری زندگی، سیاسیات، معاشیات، تعلیمات وغیرہ سب پر حاوی ہے‘‘ اسیر مالٹاشیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ فرماتے ہیں: ’’اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ تمام مذہبی، تمدنی، اخلاقی اور سیاسی ضرورتوں کے متعلق ایک کامل اور مکمل نظام رکھتا ہے۔ جو لوگ موجودہ زمانے کی کش مکش میں حصہ لینے سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور صرف حجروں میں بیٹھے رہنے کو اسلامی فرائض کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھتے ہیں وہ اسلام کے پاک وصاف دامن پر ایک بدنما داغ لگاتے ہیں۔ بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہرے پر نماز کا نور اور ذکراللہ کی روشنی جھلک رہی ہے لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا جلد اٹھو اور اس امت مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچائو تو ان کے دلوں پر خوف وہراس طاری ہوجاتا ہے۔ خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامان حرب وضرب کا خوف طاری ہوجاتا ہے‘‘۔

تصور کیجیے قبلہ اوّل یہود کے قبضے میں ہے، فلسطین لہو لہان ہے، غزہ میں پانچ مہینے میں دو سے تین لاکھ مسلمان شہید کیے جا چکے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، امریکا، روس، اسرائیل، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی افواج نے کون سا ظلم ہے جو مسلمانوں پر نہیں کیا، عراق اور افغانستان میں بیسیوں لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے ہوں اور کوئی مسلمان محض اور محض مساجد اور خانقاہوں میں ذکر وفکر صبح گاہی میں مصروف ہو! اسے پتا ہی نہ ہو کہ عالم اسلام پر کیا بیت رہی ہے۔ ٹھیک ہے، باطل طاقتور اور آپ کمزور ہیں لیکن دکھ افسوس اور شرم سے آپ کے چہرے کا رنگ تو متغیر ہونا چاہیے، چہرے پر شکن تو پڑے، غصہ تو آئے۔ باطل کو مٹانے کی تڑپ تو ہو، آپ اپنے ملک کی افواج کو ان مظالم پر حرکت میں آنے کے لیے مجبور کرنے میں حصہ تو لیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور کوئی شخص محض اپنے آپ کو اُجالنے اور اپنے تزکیہ میں مصروف ہے، ہمہ وقت اللہ اللہ میں لگا ہوا ہے تواس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنا انجام سوچ لے۔۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری؍ کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ ودلگیری؍ ترے دین وادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی؍ یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری۔

مذہبی لوگوں میں بھی بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو رمضان المبارک میں نماز روزوں کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے سامنے روتے اور گڑ گڑاتے ہیں امت مسلمہ کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر امت کی صورت حال کو تبدیل کرنے کی عملی کوششوں میں حصہ نہیں لیتے، حکمرانوں کا محاسبہ، سرمایہ دارانہ سودی نظام کا خاتمہ، اسلام کا نفاذ، دین کا غلبہ اور امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جدوجہد ان کی فکر میں کہیں موجود نہیں توسوچیے محض دعائوں پر اکتفا نتیجہ خیز ہوسکتا ہے؟ کیسے ممکن ہے کہ ہم فرض ترک کردیں اور صرف نوافل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرسکیں؟؟ سیدا لمرسلینؐ کا فرمان ہے ’’اے لوگو! اللہ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو قبل اس کے کہ تم دعا کرو اور میں تمہاری پکار کا جواب نہ دوں اور تم مجھ سے طلب کرو اور میں تمہیں عطا نہ کرو اور تم مجھ سے فتح طلب کرو اور میں تمہیں فتح نصیب نہ کروں‘‘۔ (احمد، ابن حبان، بیقہی)

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رمضان کے مہینے میں اللہ سبحانہ اللہ تعالی بھی رمضان کی جدوجہد میں مصروف رمضان کا کا مہینہ اللہ کی کرو اور فتح ہوا میں ایک لیکن ا کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی