Al Qamar Online:
2026-07-24@00:43:39 GMT

گووندا سدھر جائیں تو معاف کردوں گی؛ اہلیہ سنیتا آہوجا

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

بالی ووڈ کے سپر اسٹار گووندا اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں تاہم اس بار سنیتا آہوجا نے رشتہ قائم رکھنے کی بنیادی شرط رکھ دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے حالیہ انٹرویو میں اپنی ازدواجی زندگی اور اس میں آنے والے پیچیدہ موڑ پر کھل کر بات کی ہے۔

سنیتا آہوجا نے کہا ہے کہ اگر گووندا سدھر جائیں، اپنے رویّے میں تبدیلی لائیں اور ایک خاندان کی طرح چلنے کو تیار ہوں تو میں انہیں معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔

سنیتا آہوجا نے کہا کہ میں عمر کے اُس حصے میں ہوں جہاں عورت کو خاص طور پر شوہر اور بچوں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو۔

انھوں نے شکوہ کیا کہ گووندا الزامات اور تنازعات کو میڈیا سے گفتگو میں ہنسی میں ٹال دیتے ہیں مگر ان کے جوابات اکثر سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔

سنیتا آہوجا کے بقول شروع میں ہر معاملات میں نے سنبھالے اور گووندا کو سہارا دیا لیکن اب نئے منیجرز کے آنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ گووندا اب اپنی کم ہوتی ہوئی شہرت اور مقبولیت کو تسلیم کرنے میں بھی مشکل محسوس کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی 1987 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں جب کہ اداکار کا نام ایک کم عمر میراٹھی اداکارہ کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔

 

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سنیتا ا ہوجا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے