Islam Times:
2026-07-24@02:31:30 GMT

کیا پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

کیا پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا؟

اسلام ٹائمز: یہ کیسا اخلاقی تضاد ہے کہ کشمیریوں کے وکیل وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کشمیر کیلئے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد عالمی سطح پر نظرانداز کی جا رہی ہے اور پاکستان کی ترجیحات میں کشمیری مسائل پچھلی صفوں میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ بھارت تو پہلے سے ہی ہر میدان میں اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرچکا ہے، کیا اب پاکستان بھی کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے دستبردار ہوا چاہتا ہے۔؟ خدا نہ کرے کہ ہم عالمی برادری کے بیچ میں اپنی اخلاقی جرات ہی کھو دیں، چونکہ جو انسان اخلاقی جرائت کھو دے، وہ دوسروں کی کیا حمایت کریگا، وہ تو اپنی آزادی اور وقار کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم

یہ بھی عجیب المیّہ ہے۔ مقبوضہ جمّوں و کشمیر جل رہا ہے اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا ہے۔ غزہ امن بورڈ کے ابتدائی اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف نے مسٹر ٹرمپ کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے، لیکن کشمیری عوام کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ بلاشبہ اس خاموشی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے تاریخی اور اخلاقی کردار پر ایک گہری چوٹ لگائی ہے۔ ملتِ پاکستان پہلے ہی غزہ امن بورڈ کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتی ہے، اب اگر اس فورم پر پاکستان اپنے اخلاقی فریضے یعنی مظلوم کشمیریوں کی حمایت کو نظر انداز کرتا ہے تو پھر فلسطینیوں کی کیا خاک مدد کرے گا۔؟ ہماری دانست میں آگے چل کر اس خاموشی سے پاکستان کی عالمی ساکھ، مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اس کی مقبولیت اور دنیا میں پاکستان کے سفارتی اثرورسوخ پر دیرپا منفی اثر پڑے گا۔

سنہ 1989ء سے اب تک مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی متعدد رپورٹوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ 2016ء کے بعد صرف پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں نوجوان بینائی سے محروم اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اگست 2019ء میں خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد طویل کرفیو، مواصلاتی بندش اور ہزاروں سیاسی کارکنوں و نوجوانوں کی گرفتاریوں نے وادی کو ایک وسیع حصار میں تبدیل کر دیا۔ اس دوران وادی میں ناکہ بندیوں کا جال، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندیاں اور انٹرنیٹ کی طویل معطلی نے تعلیمی و معاشی سرگرمیوں میں شدید اختلال پیدا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق چند مہینوں میں ہزاروں افراد حراست و تفتیش کے مراحل سے گزرے، درجنوں صحافی اور کارکن قانونی کارروائیوں کا سامنا کرچکے ہیں اور متعدد بستیوں میں جھڑپوں اور تصادم کا بازار گرم رہا۔ اس وادیِ بے اماں میں لفظ "سلامتی" اپنی آبرو کھو چکا ہے۔

اب بھارت کشمیریوں کے خلاف منشیات کو بطورِ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ قابض حکام نے منشیات کے مسئلے کو ابتدا میں خطرہ قرار دیا اور پھر اسی خطرے کے نام پر تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کو ضرورت کا درجہ دے دیا۔ پرویز گجر اور دیگر ہدف بننے والے افراد کے قتل اور منشیات کے بڑھتے رجحان کے درمیان ایک مبہم مگر معنی خیز ربط موجود ہے۔ ایک طرف منشیات اور سماجی دباؤ کے ذریعے نوجوان نسل کو جسمانی، اخلاقی اور دینی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسی فضا میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں انجام پا رہی ہیں۔ بھارت اب صرف کشمیر کے جغرافیے پر قابض نہیں رہا؛ وہ ایک طاقتور دیو کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ نوجوانوں کے افکار، پہاڑوں کی بلندیاں، پانی کا بہاؤ، راستوں کی نگرانی اور بستیوں کی آبادی۔۔۔ سب کچھ بدل رہا ہے۔ پاکستان کو اس تبدیلی سے آنکھیں نہیں چرانی چاہیئے۔ خطرہ پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو فریق زمین پر قابض ہے، وہ زمانے کی رفتار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو نگرانی، رسائی اور فوری ردِعمل کی مکمل صلاحیت حاصل ہے۔ وہ عملاً کشمیریوں کی نقل و حرکت کی نگرانی، راستوں اور بلند مقامات پر کنٹرول اور آبادی کی جغرافیائی ترتیب پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ جو فریق زمین اور راستوں پر کنٹرول رکھتا ہے، وہ سماجی اور سیاسی حرکیات پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بھارت صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں۔ اس کا وجود بیانیہ، قانون، جغرافیہ اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ میڈیا سروس اور مختلف طبی و سماجی سروے رپورٹوں کے مطابق، اگر جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ پیدا کرسکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کہیں پر بھی جب نوجوان آبادی امید، روزگار اور سیاسی شرکت سے محروم ہو جائے، تو سماجی خلا منفی رجحانات سے بھر جاتا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں 90 فیصد کی عمر 17 سے 35 سال کے درمیان ہے۔ حالیہ برسوں میں منشیات کے استعمال میں 1500 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ شدید سماجی اور نفسیاتی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے شعبہ نفسیات اور محکمہ سماجی بہبود نے اس رجحان کو ایک ابھرتے ہوئے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے طور پر شناخت کیا ہے۔ ریاست کی خصوصی حیثیت پر بھارت نے شب خون مارا، لیکن اب افراد کی ذہنی، سماجی اور معاشی زندگی بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، مزاحمتی سیاست کو کمزور کرنے کے لیے نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے غیر سیاسی اور غیر فعال بنانا قابض فورسز کی حکمتِ عملی ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو منشیات کا بحران صرف صحت کا مسئلہ نہیں، بلکہ شعور اور ارادے کی جنگ کا ایک اہم پہلو بھی ہے۔

دوسری جانب بھارتی پیرا ملٹری فورس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، نے 43 عارضی آپریٹنگ اڈے قائم کیے، جن میں 26 وادی کشمیر اور 17 جموں میں ہیں، زیادہ تر بلند و بالا علاقوں میں۔ اس پیش رفت کے ذریعے بھارت نے اپنی جغرافیائی برتری سے کشمیریوں کے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی طرح، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کیا رنگ دکھائے گی۔؟ کیا پاکستان کو اس سارے منظرنامے سے الگ تھلگ رہنا چاہیئے۔؟ کیا یہ خطرہ پاکستان کے لیے چیلنج نہیں۔؟ کیا کشمیر صرف کشمیریوں کا مسئلہ ہے یا پاکستانیوں کا بھی۔؟

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اجلاس میں کشمیری عوام کا ذکر نہ کرکے یہ پیغام بین الاقوامی سطح پر دیا ہے کہ پاکستان کشمیری ایشو پر اتنا زیادہ پرعزم نہیں۔ یہ صورت حال خاص طور پر مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار کو کمزور کرسکتی ہے، کیونکہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا وکیل رہا ہے۔ یہ بھارت کی سفارتی فتح بھی ہے کہ پاکستان اس فورم کی وساطت سے کشمیر ایشو کو عالمی ایجنڈے پر نہیں لے جا سکا۔ اس سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو بھی یہ تاثر گیا ہے کہ پاکستان اب کشمیر کو اپنا حصّہ نہیں سمجھتا اور اپنے مفادات کو کشمیر سے جداگانہ طور پر دیکھتا ہے۔

بہرحال یہ کیسا اخلاقی تضاد ہے کہ کشمیریوں کے وکیل وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کشمیر کے لیے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد عالمی سطح پر نظرانداز کی جا رہی ہے اور پاکستان کی ترجیحات میں کشمیری مسائل پچھلی صفوں میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ بھارت تو پہلے سے ہی ہر میدان میں اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرچکا ہے، کیا اب پاکستان بھی کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے دستبردار ہوا چاہتا ہے۔؟ خدا نہ کرے کہ ہم عالمی برادری کے بیچ میں اپنی اخلاقی جرات ہی کھو دیں، چونکہ جو انسان اخلاقی جرائت کھو دے، وہ دوسروں کی کیا حمایت کرے گا، وہ تو اپنی آزادی اور وقار کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ہے کہ کشمیری کشمیری عوام کشمیریوں کی کشمیریوں کے پاکستان کی پاکستان کے کہ پاکستان منشیات کے بھی نہیں کے مطابق کرتا ہے ہے اور کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف